صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 230 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 230

صحيح البخاری جلد ۲۳۰ ۶۵ - كتاب التفسير ايس کی پیدائش کے بیان میں اللہ تعالیٰ کی قدرت تسخیر کا ذکر ہے جو ہر شے پر حاوی ہے اور اسی ذکر میں نظام شمسی اور نظام قمری وغیرہ کا ذکر ہے کہ وہ ایک قانون کے ماتحت اپنا اپنا کام کر رہے ہیں۔مذکورہ بالا آیات میں اس مفہوم کے پیش نظر عرش کا مفہوم سمجھنا آسان ہے۔عرش کے معنی ہیں تخت شاہی۔اور اسی نام کے پیش نظر گریسی کا لفظ بھی آیا ہے۔سورہ بقرہ آیت نمبر ۲۵۶ میں فرماتا ہے: اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ لَهُ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاء وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظیم اللہ ہی معبود ہے اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں۔وہ جی و قیوم ہے۔یعنی اپنی ذات میں زندہ جاوید ہے اور دوسروں کا سہارا ہے۔اُسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند۔اس کے قبضہ قدرت میں ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں۔کون ہے جو اُس کے حضور اس کی اجازت کے بغیر شفاعت کرے۔جانتا ہے جو اُن کے سامنے ہو رہا ہے اور جو اُن کے پیچھے ہو چکا ہے۔اور اس کے علم کا اتنا ہی احاطہ کرتے ہیں جتنا وہ چاہے۔اس کا علم اور اس کی قدرت آسمانوں اور زمین پر حاوی ہے۔ان دونوں کی حفاظت اسے ماندہ نہیں کرتی۔اور وہ بہت ہی بلند شان والا اور بہت ہی عظمت والا ہے۔امام بخاری نے روایت نمبر ۴۸۰۲ کا مفہوم واضح کیا ہے کہ سورج کا عرش کے نیچے سجدہ کرنے سے مراد یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے قائم کر دہ نظام اور اس کی قوت تسخیر اور جاری کردہ قانون کے تابع ہے اور سر بموادھر اُدھر نہیں ہوتا ، یہی اس کا سجدہ ہے۔مذکورہ بالا آیات کے تعلق میں آیت كُن في فَلَكٍ يَسْبَحُونَ (يس: ٤١) له قابل توضیح ہے تا عرش پر استویٰ باری تعالیٰ کا مفہوم ذہن نشین ہو۔استوی کے معنی ہموار ہونا، برابر ہونا، ایسی سطح پر ہونا جو بالکل صاف ہو اور اس میں کسی قسم کا نشیب و فراز نہ ہو۔جو قانون بڑی سے بڑی چیز کے لئے جاری کیا گیا ہے وہ چھوٹی سے چھوٹی چیز پر بھی حاوی ہے اور کائنات عالم کا ایک حصہ دوسرے حصے کے ساتھ پوری پوری مطابقت رکھتا ہے۔مثلاً یہی قانون کہ ہر شے اپنے اپنے دائرے میں آسانی کے ساتھ حرکت کر رہی ہے۔ہر شے کے لئے ایک محور اور مدار و منطقہ معین ہے جس میں وہ ایک نظام کے ماتحت گردش کر رہی ہے۔انسان کے علم نے جوں جوں ترقی کی ہے یہ قانون ہر شے سے متعلق زیادہ سے زیادہ آشکار ہوتا چلا جارہا ہے۔انسان کو کچھ عرصے سے نظریہ ذری (Atomic Theory اٹامک تھیوری) کا علم ہوا اور اس نے مشاہدہ و تجربہ سے معلوم کیا کہ نشوو نما کرنے والی نباتاتی اور حیوانی مخلوقات کا وجود ایسے ذرے سے ترکیب پاتا ہے جس کا نام مالیکیول (Molecule) رکھا گیا۔ایک ایک مالیکیول بہت سے (Cells) خلیات سے ترکیب پاتا ہے اور اس میں بے پناہ قوت پنہاں ہے۔اور آج ہمارے زمانے میں ایک پاکستانی عالم ماہر علم طبیعات پروفیسر ڈاکٹر عبد السلام نے تجربات اور مشاہدات کے ذریعہ یورپ کو دنگ کر دیا ہے اور اس سے خراج تحسین حاصل کیا ہے۔انہوں نے ہر مالیکیول کے اندر دکھا دیا ہے کہ فلکی نظام کی طرح اس کے اندر بھی ایک ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : ”سب کے سب اپنے اپنے مدار پر رواں دواں ہیں۔