صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 229
صحیح البخاری جلد ۲۲۹ ۶۵ - كتاب التفسير / یس سورہ کر آیت نمبر ۶، ۷ میں فرماتا ہے : اَلرَّحْمنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى لَهُ مَا فِي السَّمَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا وَ مَا تَحْتَ الثَّرى ، رحمن عرش پر ایسی حالت میں استوار ہوا کہ کہیں کوئی رخنہ نہیں۔ اس کے قبضہ قدرت میں ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور جو اُن دونوں کے درمیان ہے اور وہ بھی جو اس نمدار مٹی میں ہے۔ سورۂ فرقان آیت نمبر ۶۰ میں فرماتا ہے : الَّذِي خَلَقَ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ الرَّحْمَنُ فَثَلْ بِهِ خَبِيرًا وہ جس نے آسمانوں اور زمین اور جو اُن دونوں کے درمیان ہے چھ اوقات میں پیدا کیا۔ پھر وہ عرش پرا پر استوار ہوا۔ وہ رحمن ہے۔ اس کے متعلق ایسے شخص سے پوچھ جو خبیر یعنی راز ہائے دروں کا اچھی طرح واقف ہے۔ سورہ سجدہ آیت نمبر ۵ میں فرماتا ہے : اللهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ مَا لَكُمْ مِنْ دُونِهِ مِنْ ) مَا لَكُمْ مِنْ دُونِهِ مِنْ وَلِي وَلَا شَفِيعٍ أَفَلَا تَتَذَكَّرُونَ ) اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین اور ان دونوں کے مابین کی مخلوقات چھ وقتوں میں پیدا کی۔ پھر وہ عرش پر استوار ہوا اس کے سوا تمہارے لئے کوئی کار ساز نہیں اور نہ شفیع ۔ کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے ؟ اس کے بعد فرماتا ہے : يُدَيرُ الْأَمْرَ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ ہر امر کی ثُمَّ يَعْرُجُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُةَ اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ ) تَعُدُّونَ (السجدة : ٦ آسمان سے زمین تک ہرا تدبیر کرتا ہے۔ پھر وہ امر ایسے وقت میں اس کی طرف عود کرتا ہے جس کی مقدار ہزار سال ہے، جو تمہاری گنتی کا سال ہے۔ اس آیت سے ظاہر ہے کہ یوم کے معنی مطلق وقت کے ہیں۔ اس آیت میں یوم کی میعاد ایک ہزار سال بتائی گئی ہے مگر دوسری جگہ خَسِيْنَ أَلْفَ سَنَةٍ (المعارج:۵) یعنی پچاس ہزار سال۔ غرض لا ا لفظ یوم مطلق وقت پر دلالت کرتا ہے خواہ کم ہو یا زیادہ۔ سورۂ حدید آیت نمبر ۵ میں فرماتا ہے : هُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يَعْلَمُ مَا يَلِجُ فِي الْأَرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَمَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنْتُمْ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ وہی ہے جس نے چھ اوقات میں آسمان اور زمین بنائے پھر وہ عرش پر استوار ہوا۔ جانتا ہے جو زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو اُس سے پیدا ہوتا ہے اور جو آسمان سے نازل ہوتا ہے اور جو اُس میں اُو پر جاتا ہے اور وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو اور اللہ تمہارے اعمال کا خوب بینا ہے ۔ لَهُ مُلْكُ الشَّبُوتِ وَالْأَرْضِ وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ (الحدید: ۶) اس کی بادشاہت ہے آسمانوں کی اور زمین کی۔ اور اللہ ہی کی طرف تمام امور لوٹائے جاتے ہیں۔ مذکورہ بالا آیات پر نظر ڈالنے سے عرش کا مفہوم واضح ہے مہوم واضح ہو جاتا ہے۔ یہ مفہوم بادشاہت ا ہے۔ یہ مفہوم بادشاہت، ملوکیت اور قبضہ قدرت و تصرف سے تعلق رکھتا ہے۔ عرش کے ان معنوں میں اس کے لئے ملک، ملکوت کا لفظ بھی آیا ہے۔ فرماتا ہے: فَسُبُحْنَ الَّذِي بِيَدِهِ مَلَكُوتُ كُلِّ شَيْءٍ وَ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ (يس: ۸۴) سو وہ پاک ذات ہے۔ کوئی نقص اس ذات میں نہیں جس کے قبضہ قدرت میں ہر چیز کی بادشاہت ہے اور وہی ہر ایک کا مرجع ہے۔ ان آیات میں زمین و آسمان