صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 228
صحيح البخاری جلد ۲۲۸ ۶۵ - كتاب التفسير / يس عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى وَالشَّمْسُ تَجْرِي نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ لِمُسْتَقَر لَهَا (يس: ٣٩) قَالَ مُسْتَقَرُّهَا کے قول وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَد نَهَا کی بابت پوچھا۔آپ نے فرمایا: اس کا جائے قرار عرش تَحْتَ الْعَرْشِ۔أطرافه : ۳۱۹۹، ٤۸۰۲، ٠٧٤٢٤ ٧٤٣٣- کے نیچے ہے۔تشريح۔وَالشَّمْسُ تَجْرِى لِمُسْتَقَر لَهَا: مُسْتَفِرُ یعنی جائے قرار وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِسْتَقَرَ لَهَا ذلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ (یس : ۳۹) اور آفتاب اپنے جائے قرار کی طرف چلا جا رہا ہے۔عزیز علیم ( خالق) کی یہی تقدیر ہے۔قرآن مجید کی نسبت آیا ہے کہ یقیر بَعْضُهُ بَعْضًا یعنی اس کا ایک حصہ دوسرے حصہ کی تفسیر کرتا ہے۔اس کی مثالیں ابھی عرش کے تعلق میں آئیں گی۔چنانچہ آفتاب و مہتاب اور شب وروز کے تغیرات کے ذکر میں فرماتا ہے: كُل يَجْرِى إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى (لقمان: ۳۰) ان میں سے ہر ایک ایک معین میعاد تک چلتا چلا جاتا ہے۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ جس کی ابتداء ہے اس کا انتہا بھی ہے۔لازوال ذات باری تعالی ہی کی ہے، نہ اس کا ابتداء ہے نہ انتہاء۔مذکورہ بالا تقدیر ہر اس شے پر حاوی ہے جو مخلوق ہے۔معنونہ آیت کے تعلق میں دو روایتیں منقول ہیں۔دونوں روایتیں معنعن ہیں اور ان کے الفاظ میں اختلاف ہے۔پہلی میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوذر سے پوچھا اور دوسری میں ہے کہ حضرت ابوذر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔اور دونوں کا مفہوم یہ ہے کہ آپ نے فرمایا: سورج کی قرار گاہ عرش الہی کے نیچے ہے۔پہلی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ وہ اپنی قرار گاہ پر پہنچ کر اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہوتا ہے۔اس روایت کا مفہوم واضح کرنے کے لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ عرش کا مفہوم بیان کیا جائے جو قرآن مجید کی متعدد آیات میں ایک ہی ہے۔چنانچہ سورۃ یونس آیت نمبر ۴ میں ہے: اِنَّ رَبَّكُمُ اللهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يُدَبِرُ الْأَمْرَ مَا مِنْ شَفِيعِ إِلَّا مِنْ بَعْدِ إِذْنِهِ ذَلِكُمُ اللهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ ، اَفَلَا تَذَكَرُونَ ) یقینا تمہارا رب وہ اللہ ہے جس نے ان بلندیوں کو اور زمین کو چھ وقتوں میں پیدا کیا۔پھر وہ عرش الہی پر استوار ہوا اور ہر امر کی تدبیر کرتا ہے۔اس کی اجازت کے بغیر کوئی شفیع نہیں۔یہی اللہ تمہارا رب ہے۔سو اس کی عبادت کرو۔کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرو گے۔سورہ رعد آیت نمبر ۳ میں فرماتا ہے: اللهُ الَّذِى رَفَعَ السَّمَوتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلٌّ يَجْرِى لِاَجَلٍ مُسَمًّى يُدَيْرُ الْأَمْرَ يُفَضِلُ الْأَنْتِ لَعَلَّكُمْ بِلِقَاءِ رَبِّكُمْ تُوقِنُونَ ) الله وہ ہے جس نے یہ آسمان بغیر ستونوں کے بلند کئے ہیں۔تم دیکھ ہی رہے ہو کہ وہ بغیر ستونوں کے قائم ہیں۔پھر وہ عرش پر استوار ہوا اور آفتاب و مہتاب کو مسخر کیا۔اور ان میں سے ہر ایک معین میعاد تک کے لئے چل رہا ہے۔ہر امر کی تدبیر کرتا ہے اور اپنی آیات کی تفصیل بیان کرتا ہے تا کہ تم اپنے رب کی ملاقات کا یقین کرو۔