صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 226 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 226

صحيح البخاری جلد ۲۲۶ ۶۵ - كتاب التفسير ايس قطميره (فاطر (۱۴) یعنی مخالف طاقتیں مقابلے میں بیچ ہیں۔اور وَخَلَقْنَا لَهُم مِّنْ مِثْلِهِ۔پوری آیت یہ ہے: وَخَلَقْنَا لَهُمْ مِنْ مِثْلِهِ مَا يَرْكَبُونَ (یس:۴۳) اور ہم نے ان کے لئے کشتی کی مانند اس قسم کی سواریاں اور بھی پیدا کی ہیں جن پر وہ سوار ہوتے ہیں۔فكهُونَ: مُعْجَبُونَ، فَرِحُوْنَ یعنی خوش و خرم اپنی اچھی حالت پر اتراتے ہیں۔فیھون کی قراءت کے متعلق اختلاف ہے۔ابو جعفر و شیبہ قاریوں نے اسے فَکهُونَ بروزن فَرِحُونَ پڑھا ہے۔لیکن مشہور قراءت فکھون ہے۔ابو عبیدہ کے نزدیک فکھوں کے معنی ہیں كَثِيرُ الْفَاكِهَةِ یعنی جس کے پاس پھل بکثرت ہوں۔اس تعلق میں انہوں نے خطیقه شاعر کا یہ قول نقل کیا ہے: وَدَعَوْتَنِي وَزَعَمتَ أَنَّكَ لاين في الصيف تامز یعنی اور تو نے مجھے دعوت دی ہے اور سمجھا ہے کہ تو موسم گرما میں بہت دودھ والا ہے اور بہت کھجوروں کا مالک ہے۔فکیھون سے مراد یہ ہے کہ وہ عیش و عشرت اور ناز و نعمت میں ہیں۔وَهُمْ لَهُمْ جُنْدٌ مُّحْضَرُونَ یعنی بوقت محاسبہ معبودان باطلہ اپنے پرستاروں کی مدد کیا کریں گے ، وہ ایک ایسی فوج ہو گی جو اُن کے خلاف شہادت دے گی اور ان سے بھی جواب طلبی کی جائے گی۔الْمَشْحُون: بھر پور ، لدی ہوئی۔فرماتا ہے: وَآيَةٌ لَهُمُ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْعُونِ (يس:۴۲) اور ان کے لئے ایک نشان یہ ہے کہ ہم نے ان کی ذریت کو ایسی کشتیوں میں سوار کیا ہے جو بھر پور ہیں۔طاہر کم یعنی تمہاری بدشگونی یا بد عملی کا نتیجہ۔قَالُوا طَابِرُكُم مَّعَكُمْ - اَبِن ذُكِّرْتُمْ بَلْ أَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُونَ ) (یس: ۲۰) انہوں نے کہا کہ تمہاری بدشگونی تمہارے ساتھ ہی ہے۔یعنی برے اعمال یا نیک اعمال کا نتیجہ لازمی طور پر تمہارے ساتھ ہے اور اپنے وقت پر ظاہر ہو گا۔کیا تم یہ بات اس لئے کہتے ہو کہ تمہیں اچھے کاموں کے لئے یاد دہانی کی گئی ہے۔بلکہ اصل بات یہ ہے کہ تم ایسے لوگ ہو جو حد سے گزرنے والے ہو۔طرح طرح کی مصیبتیں انہیں ادھر اُدھر سے گھیر لیتی ہیں اور وہ انہیں انبیاء کی آمد سے منسوب کرتے ہیں۔حضرت ابن عباس کے نزدیک طاہر گھر کے معنی ہیں اعتمالُكُمْ یعنی تمہارے اعمال۔اور ابو عبیدہ نے حَظكُمْ مِنَ الْخَيْرِ وَالشَّرِ بتایا ہے یعنی تمہارا نیک و بد نصیبہ۔ینسلون سے اس آیت کریمہ کی طرف اشارہ ہے: وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَإِذَاهُمْ مِنَ الْجَرَاثِ إِلَى رَبِّهِمْ يَنْسِلُونَ (یس:۵۲) اور قرنا پھونکی گئی تو کیا ہے وہ اچانک قبروں سے نکل کر اپنے رب کی طرف سہولت سے چلے جارہے ہیں۔مرقدنا سے نکلنے کی جگہ مراد لی گئی ہے۔فرماتا ہے: قَالُوا يُوَيْلَنَا مَنْ بَعَثَنَا مِنْ فَرْقَدِنَا هَذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمَنُ وَصَدَقَ الْمُرْسَلُونَ (يس:۵۳) انہوں نے کہا: ہائے ہلاکت ! ہمیں اپنی قبروں سے نکال کر کس نے کھڑا کر دیا ہے۔یہ تو وہی وعدہ ہے جو رحمن نے کیا تھا اور رسولوں نے راست راست بیان کیا۔أحْصَيْنَا یعنی ہم نے محفوظ کر دیا۔فرماتا ہے: انا نَحْنُ نَغِي الموتى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَ أَثَارَهُمْ وَكُلَّ شَيْءٍ أَحْصَيْنَهُ في إِمَامٍ مُّبِین (يس: ۱۳) ہم ہی مُردوں کو زندہ کرتے ہیں اور جو اُنہوں نے (آئندہ زندگی کے لئے) آگے بھیجا ہے اُسے محفوظ رکھتے ہیں اور اُن کے اعمال کے نتیجے بھی۔ہر شے کو ہم نے ایک کھلی کتاب میں محفوظ رکھ لیا ہے۔