صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 225 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 225

صحيح البخاری جلد ۲۲۵ ۶۵ - كتاب التفسير ايس لئے قطعا خوشی کا موجب نہیں ہوتی بلکہ وہ غایت درجہ رحم دل ہوتے ہیں اور انہیں اپنی قوم کی بربادی سے اسی طرح رنج و غم ہوتا ہے جس طرح ایک مشفق ماں کو اپنی اولاد کی ہلاکت سے۔لَا الشَّمْسُ يَنبَغِي لَهَا أَنْ تُدرِكَ الْقَمَرَ : یہ آیت اس سیاق میں آئی ہے کہ سارا نظام عالم ایک معین قانون کے تحت چل رہا ہے۔پوری آیت یہ ہے: لَا الشَّمْسُ يَنْبَغِي لَهَا أَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا الَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ (ليس: ۴۱) نه تو سورج کو طاقت ہے کہ وہ اپنے سالانہ دورے میں کسی وقت چاند کے قریب جا پہنچے اور نہ رات دن سے آگے نکل سکتی ہے۔ان میں سے ہر ایک اپنے مدار میں سہولت سے چلتا جارہا ہے اور یہ نظام عزیز، علیم اور خالق کی تقدیر سے چل رہا ہے۔اسی طرح ضلالت و ہدایت کا دور بھی اپنی تقدیر کے تحت ہے۔دور ضلالت کی تاریک رات طلوع آفتاب کی مقتضی ہے اور یہ طبعی تقاضا آفتاب عالم روحانی محمد رسول اللہ صل ال یکم کی بعثت سے پورا ہوا۔غرض تکوینی نظام مادی اور نظام روحانی کے درمیان پوری پوری مطابقت ہے جو ملکی تصرفات کے ذریعہ چل رہا ہے۔وَايَةٌ لَهُمُ الَّيْلُ نَسْلَخُ مِنْهُ النّهَارَ : ان کے لئے رات کا ایک نشان ہے، اسی سے ہم دن نکالتے ہیں۔یعنی تاریکی میں پڑی ہوئی قوم میں سے ہی نور ظاہر ہوتا ہے۔امام بخاری نے سورۃ فاطر کے آغاز میں اس کا دوسرا نام سُوْرَةُ الْمَلَائِكَة نمایاں کیا ہے۔اس سے اس امر کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ دونوں نظام ملائکتہ اللہ کے تصرف سے چل رہے ہیں۔اور جیسا کہ بتایا جا چکا ہے سورہ لیں کو سورہ فاطر کے ساتھ اکٹھا رکھنا بلا وجہ نہیں۔سورۃ لیس کی جن آیات کا حوالہ دیا گیا ہے ان سے یہی حقیقت آشکار کرنا مقصود ہے۔سورۃ فاطر کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: الحمد لِلهِ فَاطِرِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ جَاعِلِ الْمَلَكَةِ رُسُلًا أُولَى أَجْنِحَةٍ مَثْنَى وَثُلَثَ وَرُبعَ - يَزِيدُ فِي الْخَلْقِ مَا يَشَاءُ إِنَّ اللَّهَ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُ (فاطر : ۲) سب خوبیاں اللہ ہی کے لئے ہیں جو آسمانوں اور زمین کو ایک نئے نظام کے مطابق پیدا کرنے والا ہے۔(جو سابقہ نظام کے اندر سے ہی پیدا کیا جاتا ہے ) فرشتوں کو بطور رسول مقرر کرتا ہے جن کے کئی بازوں ہیں، دو دو اور تین تین اور چار چار۔پیدائش میں جتنا چاہتا ہے بڑھاتا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہر شے پر قدیر لفظ جناح استعارة بطور قوت عمل و حمایت استعمال ہوتا ہے۔زبان اُردو میں بھی بازو انہی معنوں میں مستعمل ہے۔جناح بمعنی یہ (یعنی ہاتھ ) ، عَضُد بمعنی بازو، گلف بمعنی پہلو اور ظل بمعنی سایہ۔کہتے ہیں: أَنَا فِي جَنَاحَ فَلَانٍ : في حمايته، تحت ظله یعنی اس کے زیر سایہ ہوں۔اولى اجنحة یعنی کئی طاقتوں والے بہت زبر دست مَثْنَى وَثُلث و ربع۔حصر تعداد کے لئے نہیں بلکہ اس سے یہ مراد ہے کہ غیر محدود طاقت رکھنے والے ، جیسا کہ آیت یزید فی الحاق سے ظاہر ہے۔اللہ تعالیٰ کی دو صفتیں بیان ہوئی ہیں، الْعَزِیزُ الْحَكِيمُ۔صفت عزیزیت غلبہ واقتدار سے تعلق رکھتی ہے اور صفت حکیمیت تدبیر محکم ہے۔یہ دو صفات جامع ہیں صفت علیم و خبیر اور قدیر کی۔کیونکہ جب تک اللہ تعالیٰ کے لئے یہ تسلیم نہ کیا جائے کہ ظاہر و باطن کا جاننے والا ہے اور عالم الغیب ہے ، بڑی قدرت والا ہے، تدبیر محکم صادر نہیں ہو سکتی۔غرض یہ صفات مستلزم ہیں کئی اور صفات کی۔آیت زیر شرح میں ان دونوں صفتوں کے بیان کرنے میں دین اسلام کے ترقی پانے اور مخالفین کے مغلوب ہونے کی پیشگوئی مضمر ہے۔چنانچہ فرماتا ہے: مَا يَمْلِكُونَ مِنْ