صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 224
صحيح البخاری جلد ۲۲۴ ۶۵ - كتاب التفسير ايس شریح مجاہد کا قول عورتا بمعنی شد دنا اس آیت سے ہے: إِذْ أَرْسَلْنَا إِلَيْهِمُ اثْنَيْنِ فَكَذَّبُوهُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُوا إِنَّا إِلَيْكُمْ مُرْسَلُونَ قَالُوا مَا اَنْتُمْ إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُنَا وَ مَا أَنْزَلَ الرَّحْنُ مِنْ شَيْءٍ إِنْ أَنْتُمْ إِلَّا تَكُذِبُونَ (يس: ۱۶،۱۵) جب ہم نے ان کی طرف دو رسول بھیجے تو انہوں نے اُن دونوں کو جھٹلایا۔اس پر ہم نے تیسرے کے ذریعہ اُن دونوں کو مضبوط کیا۔پھر اُن سب نے کہا: ہمیں تمہاری طرف پیغام دے کر بھیجا گیا ہے۔انہوں نے کہا: تم تو ہمارے جیسے ہی بشر ہو۔رحمن نے کوئی وحی نازل نہیں کی۔تم صریح جھوٹ بول رہے ہو۔فَعَزَرْنَا بمعنى شَدَّدنا سے متعلق مجاہد کا قول فریابی نے موصولاً نقل کیا ہے۔اس لفظ کے تعلق میں جو آیت مع ترجمہ نقل کی گئی ہے اس سے ماقبل یہ آیت ہے : وَاضْرِبُ لَهُم مَّثَلًا أَصْحَبَ الْقَرْيَةِ إِذْ جَاءَهَا الْمُرْسَلُونَ (يس: ۱۴) اور ان کے لئے گاؤں والوں کی مثال بیان کر جب ان کے پاس رسول آئے۔ان آیات کے سیاق میں عام مثال بیان ہوئی ہے اور اس میں سات باتیں بیان کی گئی ہیں جو ہر نبی کی بعثت سے مخصوص ہیں۔ا نبی کی آمد سے متعلق خبر پہلے سے موجود ہوتی ہے۔وہ وحی الہی سے اور دعوت توحید کے لیے حکماً کھڑا ہوتا ہے۔نبی کی قوم اُسے جھوٹا قرار دیتی ہے اور نزول وحی کی منکر ہوتی ہے۔نبی کی بعثت کے وقت اس کے انکار پر ایسی قوم طرح طرح کے مصائب سے دوچار ہوتی ہے۔یہ مصیبتیں نبی کے قدم نحس کا نتیجہ سبھی جاتی ہیں۔نبی کی قوم ہی میں سے مصدق و معاون پیدا کر دیئے جاتے ہیں۔اتمام حجت پر قوم یکا یک مؤاخذہ الہی کے نیچے آجاتی ہے۔یہ ساتوں باتیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں من کل الوجوہ صادق آئیں۔چنانچہ آپ کی آمد سے متعلق حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی واضح الفاظ میں پیشگوئی فرمائی اور حضرت عیسی علیہ السلام نے بھی۔علاوہ ازیں دیگر انبیاء نے بھی۔لیکن آپ کی بعثت کا ظہور ان دونوں نبیوں کی دعوت توحید کے تسلسل میں ہی ہوا اور جو جو علامتیں انہوں نے آپ کی بعثت کے بارے میں بتائی تھیں وہ ہو بہو پوری ہوئیں۔سب سے بڑی علامت یہ بتائی گئی تھی کہ ام القریٰ اور اہل عرب و دیگر قومیں جو شرک میں مستغرق تھیں آپ کی دعوت توحید قبول کریں گی بحالیکہ انہوں نے نہ حضرت ہے۔موسیٰ کی آواز پر کان دھرے اور نہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آواز پر۔یہ مراد ہے فَكَذَّبُوهُمَا فَعَزَزْنَا بِثَالِثٍ - يحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ كے الفاظ سے اس آیت کا حوالہ دیا گیا ہے: یحسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِعُونَ (ليس: ۳۱) ہائے افسوس بندوں پر کہ جب کبھی بھی ان کے پاس کوئی رسول آتا ہے تو ضرور وہ اسے حقیر سمجھتے اور اس کی ہنسی مذاق اڑاتے ہیں۔اس آیت سے ظاہر ہے مکذبین کی ہلاکت انبیاء علیہم السلام کے