صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 223
صحیح البخاری جلد ۲۲۳ ۶۵ - كتاب التفسير ايس ٣٦- سورة ليس وَقَالَ مُجَاهِدٌ فَعَزَّزْنَا (يس: (١٥) شَدَّدْنَا۔ اور مجاہد نے کہا: فعززنا کے معنی ہیں ہم نے مضبوط يُحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ (يس: ۳۱) وَكَانَ حَسْرَةً کیا۔ يُحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ ( بندوں پر روں پر افسوس ) یعنی عَلَيْهِمُ اسْتِهْزَاؤُهُمْ بِالرُّسُلِ۔ أَن رسولوں سے ہنسی مذاق ان کے لئے وبال جان بنا۔ تُدْرِكَ الْقَمَرَ (يس: ٤١) لَا يَسْتُرُ ضَوْءُ أَنْ تُدْرِكَ الْقَمر یعنی سورج اور چاند ایک دوسرے کی روشنی کے لئے روک نہیں بنتے۔ اور نہ یہ بات أَحَدِهِمَا ضَوْءَ الْآخَرِ وَلَا يَنْبَغِي لَهُمَا ذَلِكَ ۔ سَابِقُ النَّهَارِ (يس: ٤١) يَتَطَالَبَانِ انہیں چاہیے کہ وہ روک بنیں۔ سَابِقُ النَّهَارِ : رات اور دن اپنے اپنے وقت پر آتے اور جاتے حَثِينَيْنِ۔ نَسْلَخُ (يس: ٣٨) نُخْرِجُ ہیں اور ایک دوسرے سے آگے نہیں نکلتے۔) یعنی أَحَدَهُمَا مِنَ الْآخَرِ وَيَجْرِي كُلُّ وَاحِدٍ پیہم ایک دوسرے کے پیچھے آتے ہیں۔ نَسْلَخُ مِنْهُمَا مِنْ مِثْلِهِ (يس: ٤٣) مِنَ الْأَنْعَامِ کے معنی ہیں ان میں سے ایک کو دوسرے سے فَكِهُونَ (يس: ٥٦) مُعْجَبُونَ۔ جُند نکالتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے مُحْضَرُونَ (يس: ٧٦) عِنْدَ الْحِسَابِ۔ راستے پر چل رہا ہے۔ مِن مثلہ یعنی اس جیسے وَيُذْكَرُ عَنْ عِكْرِمَةَ الْمَشْحُونَ (يس: ٤٢) چوپائے۔ فکھون کے معنی ہیں خوش و خرم ۔ جُند مُحْضَرُونَ یعنی ایسا لشکر ہے جو محاسبہ کے وقت الْمُوقَرُ۔ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ طَائِرُكُمْ حاضر کیا جائے گا۔ اور عکرمہ سے مروی ہے کہ (يس: ٢٠) مَصَائِبُكُمْ ۔ يَنْسِلُونَ (يس: ٥٢) مَشْحُون کے معنی ہیں بھر پور بوجھ سے لدے يَخْرُجُونَ۔ مَرْقَدِنَا (يس: ٢٠) مَخْرَجِنَا ۔ ہوئے۔ اور حضرت ابن عباس نے کہا: طاہر کم أَحْصَيْنَهُ (يس: ۱۳) حَفِظْنَاهُ۔ مَكَانَتُكُمْ سے مراد ہے تمہاری مصیبتیں۔ يَنسِلُونَ کے معنی وَمَكَانُكُمْ وَاحِدٌ۔ ہیں وہ نکلتے ہیں۔ مَرْقَدِنَا سے مراد ہے ہمارے نکلنے کی جگہ ۔ اَحْصَيْنَهُ یعنی ہم نے اسے محفوظ کر دیا ہے۔ مَكَانَتُهُمْ وَمَكَانُهُمْ معنوں کی رو سے ایک ہی ہیں۔ یعنی ان کی جائے سکونت۔ فتح الباری مطبوعہ بولاق میں اس جگہ مَكَانَتُهُمْ وَمَكَانُهُمْ “ کے الفاظ ہیں ۔ ( فتح الباری جزء ۸ حاشیہ صفحہ ۶۸۶) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔