صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 222 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 222

صحيح البخاری جلد ۲۲۲ ۶۵ - کتاب التفسير الملائكة اپنے رب سے غائبانہ خوف کھاتے ہیں اور جنہوں نے نماز باہمہ شروط قائم کی اور جو پاک ہوا تو یقیناوہ اپنے نفس کی بھلائی کے لئے ہی پاکیزہ ہو گا اور اللہ ہی کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہو گا۔الحرور : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَمَا يَسْتَوِي الْأَعْلَى وَالْبَصِيرُ وَلَا الظلمتُ وَلَا النُّورُ وَلَا الظَّلُ وَلَا الْحَرُورُه وَمَا يَسْتَوِي الْأَحْيَاء وَلَا الْأَمْوَاتُ (فاطر:۲۰ تا ۲۳) نابینا اور بینا برابر نہیں ہوتے اور نہ تاریکیاں اور نور اور نہ سایہ اور دھوپ اور نہ زندہ اور مردے۔شرح الفاظ میں الحدود ہی کے معنی بیان کئے گئے ہیں۔لیکن مراد تمام وہ آیتیں ہیں جو اس سیاق میں آئی ہیں اور جن کا ترجمہ کیا گیا ہے۔آیت ۲۳ کے آخر میں فرماتا ہے: اِنَّ اللهَ يُسْع مَنْ يَشَاءُ ۚ وَمَا أَنْتَ بِمُسْع مَنْ فِي القُبُورِ اللہ ہی جسے چاہتا ہے سناتا ہے اور تو ہرگز انہیں سنا نہیں سکتا جو قبروں میں ہوں۔غرابيب سے یہ آیت مراد ہے : اَلَمْ تَرَ أَنَّ اللهَ انْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجْنَا بِهِ ثَمَرَاتٍ مُخْتَلِفًا أَلْوَانُهَا ۖ وَ مِنَ الْجِبَالِ جُدَادَ بِيضٌ وَحُمْرٌ مُخْتَلِف اَلْوَانُهَا وَ غَرَابِيبُ سُوده (فاطر : ۲۸) کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ ہی نے بادل سے پانی اتارا جس کے ذریعے سے پھل پیدا کئے جو گوناگوں ہیں اور پہاڑوں میں سے الگ الگ پہاڑ ہیں۔بعض سفید بعض سرخ جو قسما قسم کے ہیں اور سیاہ فام بھی ہوتے ہیں۔مذکورہ بالا آیات سے سورۃ فاطر کے مضمون کی طرف توجہ دلائی ہے کہ خالق فطرت کی پیدائش کی بو قلمونی اپنے اندر عجائب قدرت رکھتی ہے۔اس رنگارنگ کی پیدائش میں ملکی تصرفات کام کر رہے ہوتے ہیں۔لفظ ملک کا اشتقاق قوت کے معنوں پر دلالت کرتا ہے۔اس کائنات کا وجود بے شمار قوتوں کی وجہ سے ظہور پذیر ہے۔سورۃ فاطر اور یسین کو امام بخاری نے ایک عنوان کے ما تحت اکٹھا کیا ہے جس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ بلحاظ مضمون دونوں سورتیں آپس میں تعلق رکھتی ہیں۔