صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 221 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 221

صحیح البخاری جلد !! ۲۲۱ ۶۵ - کتاب التفسير الملائكة ٣٥ - سُوْرَةُ المَلَائِكَةِ قَالَ مُجَاهِدٌ الْقِطْمِيرُ لِفَافَةُ النَّوَاةِ۔ مجاہد نے کہا کہ قِطْمِیر کے معنی ہیں گٹھلی کا مُثْقَلَةٌ (فاطر: (۱۹) مُثَقَّلَةٌ۔ وَقَالَ ابْنُ چھلکا۔ مثقَلَةٌ یعنی بوجھ سے لدی ہوئی۔ اور عَبَّاسِ الْحَرُورُ بِاللَّيْلِ وَالسَّمُومُ حضرت ابن عباس نے فرمایا: الْحَرُورُ کے معنی بِالنَّهَارِ۔ وَقَالَ غَيْرُهُ الْحَرُورُ (فاطر : ۲۲) ہیں رات کی گرمی اور السموم دن کی گرمی۔ اور بِالنَّهَارِ مَعَ الشَّمْسِ وَغَرَابِيبُ سُودٌ حضرت ابن عباس کے سوا اوروں نے کہا: (فاطر: ۲۸) أَشَدُّ سَوَادًا، الْغِرْبِيبُ الْحَرُورُ : وہ تپش ہے جو آفتاب کی وجہ سے دن کو الشَّدِيدُ السَّوَادِ ۔ ہوتی ہے۔ غَرَابِيبُ سُود کے معنی ہیں بہت سیاہ۔ (اس کا مفرد) غربیب (ہے) یعنی نہایت ہی سیاہ۔ تشریح : اس اس سورۃ کا نام بوجہ صفت باری تعالیٰ فَاطِرِ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ (الفاطر:۲) فاطر (خالق) ہے اور اس کا نام امام بخاری نے ملائکہ بھی بتایا ہے کہ اس میں ملائکہ اللہ کا ذکر ہے۔ جن سے وہ طاقتیں مراد ہیں جو نظام سماوی و ارضی کے وجود پذیر ہونے اور قیام میں کار فرما ہیں۔ لفظ قطمیر کی شرح سے یہ آیت مراد ہے : ذَلِكُمُ اللهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مَا يَمْلِكُونَ مِنْ قِطْمِيرٍ (فاطر : (۱۴) یہ اللہ تمہارا رب ہے۔ بادشاہت اسی کی ہے اور اس کے سوا جن کو تم پکارتے ہو وہ اتنے کے بھی مالک نہیں جتنا کہ کھجور کی گٹھلی کا درمیانی چھلکا۔ ابو عبیدہ نے وہ جھلی مراد لی ہے جو گٹھلی کے اوپر ہوتی ہے اور عربی میں اسے فوقَةٌ کہتے ہیں۔ ابو عبیدہ نے شاعر کا یہ مصرعہ نقل کیا ہے : وَأَنْتَ لَنْ تُغْنِيَ عَنِّي فُوْقًا یعنی تم مجھے کھجور کے چھلکے کے برابر بھی کام نہیں دے سکتے۔ مُثْقَلَةٌ سے یہ آیت مراد ہے : وَإِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلُ مِنْهُ شَيْءٍ وَ لَوْ كَانَ ذَا قربي - إِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِينَ يَخْشَونَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمُ بِالْغَيْبِ وَأَقَامُوا الصَّلوةَ وَ مَنْ تَزَلَّى فَإِنَّمَا يَتَزَكَّى لِنَفْسِهِ ۖ وَ إِلَى اللَّهِ الْمَصِيرُ (فاطر : ۱۹) اور اگر کوئی ( گناہوں کے بوجھ سے دبی ہوئی جان اپنا بوجھ اٹھانے کے لئے بلائے گی تو اس کے بوجھ سے کچھ نہ اٹھایا جائے گا خواہ کتنا ہی قریبی کیوں نہ ہو۔ تو صرف ان لوگوں کو خطرے سے آگاہ کرتا ہے جو اے فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق عنوان سُوْرَةُ الْمَلَائِكَةِ وَيَاسِيْنَ “ ہے۔ (فتح الباری جزء ۸ حاشیہ صفحہ ۶۸۵) الفاظ " الشَّدِيدُ السَّواد فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہیں۔ (فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۶۸۵) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔