صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 14
صحیح البخاری جلد ۶۵ - کتاب التفسير / كهيعص اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ ۚ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِلٌ وَ مِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرُتِ بِإِذْنِ اللَّهِ ذَلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الكَبِيرُ (فاطر : (۳۳) پھر ہم نے اپنی کتاب کا اُن لوگوں کو وارث کیا جو ہمارے بندوں میں سے برگزیدہ ہیں (اور وہ تین گروہ ہیں۔ ان : روہ ہیں)۔ ان میں سے ایک ظالموں کا ما ظالموں کا گروہ جو اپنے نفس پر ظلم کرتے ہیں (یعنی اکراہ و جبر سے نفس امارہ کو خدا تعالیٰ کی راہ پر چلاتے ہیں اور نفس سرکش کی مخالفت کر کے مجاہدات شاقہ میں مشغول ہیں۔) دوسرے میانہ حالت آدمیوں کا گروہ (جو بعض خدمتیں خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے نفس سرکش سے باکراہ وجبر لیتے ہیں اور بعض للہی کاموں کی بجا آوری میں نفس اُن کا بخوشی خاطر تابع ہو جاتا ہے اور ذوق اور محبت سے ان کاموں کو بجالاتا ہے۔) تیسرے اللہ کے حکم سے سابق بالخیرات اور اعلیٰ درجے کے آدمیوں کا گروہ۔ یہ (اللہ کا) بڑا فضل ہے۔ غرض اس آیت کے سیاق سے لفظ ظالم کا عام مفہوم بدل گیا ہے۔ قرآن مجید میں اس کی کئی مثالیں ہیں۔ مثلاً فرماتا ہے: انا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَواتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَيْنَ أَنْ يَحْمِلْنَهَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْإِنْسَانُ إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا ( الاحزاب : ۷۳) (۷۳) - اس آیت میں لفظ ظَلُوم اور جھول اچھے معنوں میں استعمال ہوا ہے اور فرماتا ہے : وَ لَمْ تَظْلِمُ مِنْهُ شَيْئًا (الکہف: ۳۴) اس سے مراد ہے وَلَمْ تَنْقُصْ مِنْهُ شَيْئًا یعنی اُس نے بار آوری میں کمی نہیں کی اور فرماتا ہے : وَوَجَدَكَ ضَالاً فَهَدی (الضحی : ۸) یعنی اور ( جب) اس نے تجھے (اپنی قوم کی محبت میں) سرشار دیکھا تو ( ان کی اصلاح کا ) صحیح راستہ تجھے بتا دیا۔ اس آیت میں ضال کے معنی گمراہ نہیں بلکہ عشق الہی میں سرگردان کے ہیں۔ ضال بمعنی محبت و عشق سورۃ یوسف میں بھی آیا ہے۔ قَالُوا تَاللَّهِ إِنَّكَ لَفِي ضَلَلِكَ الْقَدِيمِ ) (یوسف: (۹۶) حضرت یعقوب کے بیٹے اپنے باپ سے کہتے ہیں کہ آپ یوسف کی محبت میں کھو چکے ہیں۔ ان چاروں آیات کی لطیف شرح کے لیے دیکھئے آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۱۶۶ تا ۱۷۷۔ اس شرح کے مطالعہ سے سیاق کلام کی اہمیت پورے طور پر واضح ہو جاتی ہے۔ بَاب : أَفَرَعَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِايْتِنَا وَ قَالَ لَأُوتَيَنَ مَالًا وَ وَلَدًا ( مريم : ۷۸) اللہ تعالیٰ کا فرمانا: کیا تجھے اس شخص کے متعلق معلوم ہوا ہے جس نے ہماری آیات کا کفر کیا اور کہا کہ مجھے بہت سی دولت اور بہت سی اولاد ضرور دی جائے گی ٤٧٣٢ : حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا ۴۷۳۲: (عبد اللہ بن زبیر ) حمیدی نے ہم سے سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي الضُّحَى بیان کیا کہ سفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔ ا ترجمه حضرت خليفة المسيح الرابع : یقینا ہم نے امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو اُنہوں نے اُسے اُٹھانے سے انکار کر دیا اور اس سے ڈر گئے جبکہ انسان کامل نے اُسے اُٹھا لیا یقینا وہ (اپنی ذات پر ) بہت ظلم کرنے و نے والا (اور اس ذمہ دار والا داری کے عواقب کی ) بالکل پر واہ نہ کر واہ نہ کرنے والا تھا۔