صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 13
صحیح البخاری جلد نیز فرمایا: گشت الله ۶۵ - کتاب التفسير / كهيعص مقربوں کا روح القدس کی تاثیر سے علیحدہ ہونا ایک دم کے لئے بھی ممکن نہیں کیونکہ اُن کی نئی زندگی کی روح یہی روح القدس ہے پھر وہ اپنی روح سے کیونکر علیحدہ ہو سکتے ہیں۔ اور جس علیحدگی کا ذکر احادیث اور بعض اشارات قرآن کریم میں پایا جاتا ہے اُس سے مراد صرف ایک قسم کی تجلی ہے کہ بعض اوقات بوجہ مصالح الہی اس قسم کی تجلی میں کبھی دیر ہوگئی ہے اور اصطلاح قرآن کریم میں اکثر نزول سے مراد وہی تجلی ہے ورنہ ذرہ سوچنا چاہیئے کہ جس آفتاب صداقت کے حق میں یہ آیت ہے وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحی یوحی (النجم :۴، ۵) یعنی اس کا کوئی نطق اور کوئی کلمہ اپنے نفس اور ہوا کی طرف سے نہیں وہ تو سراسر وحی ہے جو اُس کے دل پر نازل ہو رہی ہے اس کی نسبت کیا ہم خیال کر سکتے ہیں کہ وہ مدتوں نور وحی سے بکلی خالی ہی رہ جاتا تھا۔“ ( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ حاشیه صفحه ۹۱، ۹۲) الله اس تعلق میں تفصیل کے لیے دیکھئے آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۷۲ تا ۱۲۶۔ سورۃ مریم کی محولہ بالا آیت کا تعلق اس سورۃ کے اصل موضوع کے عین مطابق ہے۔ یہ بتایا جا چکا ہے کہ اس سورۃ کا موضوع ایک بہت بڑی بشارت پر مشتمل ہے۔ یعنی یہ بشارت کہ آنحضرت صلی علیم کے ساتھ فتنہ دجال اور برتتلی کے ایام میں ویسے ہی سلوک کیا جائے گا جیسا کہ حضرت زکریا اور حضرت مریم صدیقہ اور حضرت ابراہیم ابرا علیہم السلام کے ساتھ ہوا۔ آپؐ کے لئے بھی پر خطر ایام میں آپ کا ایک روحانی بیٹا جو مشیل ابن مریم ہو گا مبعوث کیا جائے گا اور اس کے ہاتھوں کسر صلیب اور فتنہ دجال کا قلع قمع ہو گا اور وہ اضمحلال و ادبار امت کا مداوا کرے گا۔ یہ وہ عظیم الشان خبر ہے جس کی نسبت فرمایا گیا ہے : إِنَّهُ كَانَ وَعْدُهُ مَاتِيًّا ( مریم : (۶۲) یعنی یقینا یہ وع پورا ہو کر رہے گا اور اس تعلق میں ملائکۃ اللہ کا یہ قول ہے : وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلَّا بِأَمْرِ رَبِّكَ ۔ (مریم: ۶۵) یعنی اور ہم نہیں اترتے مگر تیرے رب کے حکم سے۔ اور اس کے پرفتن زمانے کا تقاضا ہے کہ ملائکۃ اللہ کا پے درپے نزول ہو جس سے انتشار روحانیت اور اصلاح خلق کا سامان مہیا ہو۔ یہ وعدہ یہ امر پہلے بھی بیان کیا جا چکا ہے اور بوجہ اس کی اہمیت کے یہاں پھر اسے دوہرایا جاتا ہے کہ آیات کے معانی سیاق کلام میں واضح ہوتے ہیں۔ سیاق کلام کی اہمیت اس بات سے ظاہر ہے کہ ایک لفظ جو عام طور پر بڑے معنوں میں استعمال ہوتا ہے سیاق کے قرینے سے اس لفظ کے متعارف معنی بدل جاتے ہیں۔ آیت فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ میں ظالم کا لفظ متعارف معنوں میں نہیں آیا بلکہ اس کے مستحسن معنی ہیں۔ آیت کا سیاق و سباق یہ ہے : ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَبَ الَّذِينَ