صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 217
صحیح البخاری جلد ۲۱۷ ۶۵ - كتاب التفسير / سبأ مِنْ مَّحَارِيبَ وَ تَمَاثِيلَ وَجِفَانٍ كَالْجَوَابِ وَ قُدُورٍ رَسِيتٍ اعْمَلُوا آلَ دَاوُدَ شُكْرًا وَقَلِيلٌ مِنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ (سبأ: ۱۴) وہ جو کچھ چاہتا تھا (یہ قومیں) اس کے لئے سامان بناتی تھیں۔ مسجدیں اور ڈھلے ہوئے مجسمے اور بڑے بڑے لگن جو حوضوں کے برابر ہوتے اور بھاری دیگیں جو ہر وقت چولہوں پر دھری رہتیں۔ (اور ہم نے کہا:) اے آل داود ! شکر بجالاؤ اور میرے بندوں میں سے بہت کم شکر گزار ہوتے ہیں۔ اس تعلق میں دیکھئے کتاب التفسير، شرح الفاظ سورۃ النمل ۔ جہاں بتایا گیا ہے کہ پہاڑی اور جنگلی قومیں حضرت سلیمان علیہ السلام کے زیر تسخیر تھیں۔ یں دیکھئے تفسیر صغیر از حضرت مرزا بشیرا علاوہ ازیں دی البشیر الدین محمود احمد ، سورۃ النمل، حاشیه آیت نمبر ۴۰۔ الله رضى عنه يُجِبَالُ أَوْبِي مَعَهُ وَالطَّيْرَ (سبأ: 11) کے تعلق میں بتایا گیا ہے کہ پہاڑی قوموں نے ان کی اطاعت اختیار کرلی تھی۔ انطاکیہ سے خلیج فارس اور ساحل عرب کے قرب وجوار کے علاقے سب ان کے تابع تھے اور جہاز رانی کا سلسلہ بہت وسیع تھا۔ سمندروں میں تجارت بردار جہاز ان کے حکم سے چلتے ، اس انتظام کے لئے بڑی بڑی فوجیں تھیں۔ ان کے اور مہمانوں و مساکین کے لیے بڑے بڑے لنگر قائم تھے جن میں شب و روز کھانے پکانے کا انتظام تھا۔ مذکورہ بالا آیات میں اسی وسعت تسخیر کا ذکر کیا گیا ہے۔ باب ۱ حَتَّى إِذَا فُرْعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ قَالُوا مَا ذَا قَالَ رَبُّكُمْ قَالُوا الْحَقَّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ اللہ تعالیٰ کا فرمانا:) جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کی جائے گی تو وہ کہیں گے تمہارے رب نے کیا کہا ہے تو وہ کہیں گے : حق بات ہی کہی ہے اور وہ بہت بلند مرتبہ بہت ہی بڑی شان والا ہے (سبأ: ۲۴) Ο۔ ٤٨٠٠ : حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا ۴۸۰۰: (عبید اللہ بن زبیر ) حمیدی نے ہم سے سُفْيَانُ حَدَّثَنَا عَمْرُو قَالَ سَمِعْتُ بیان کیا کہ سفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔ عِكْرِمَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُوْلُ عمرو بن دینار) نے ہم سے بیان کیا۔ وہ کہتے تھے: میں نے عکرمہ کو کہتے سنا۔ میں نے حضرت إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابوہریرہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: نبی صلی اللہ ہم نے إِذَا قَضَى اللَّهُ الْأَمْرَ فِي السَّمَاءِ ضَرَبَتِ فرمایا: جب اللہ آسمان میں کسی بات کا فیصلہ کرتا الْمَلَائِكَةُ بِأَجْنِحَتِهَا خُضْعَانًا لِقَوْلِهِ ہے تو ملائکہ اس فیصلے سے مرعوب ہونے کی وجہ كَأَنَّهُ سِلْسِلَةٌ عَلَى صَفْوَانٍ فَإِذَا فُرِّعَ سے کانپتے ہیں۔ (یعنی ان پر کپکپی طاری ہوتی ہے)