صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 218
صحيح البخاری جلد ۲۱۸ ۶۵ - كتاب التفسير اسبا عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ اور یہ کیفیت ہوتی ہے جیسے زنجیر کو صاف چٹان قَالُوْا لِلَّذِي قَالَ الْحَقَّ وَهُوَ الْعَلِيُّ پر مارنے سے آواز پیدا ہوتی ہے۔جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کر دی جاتی ہے تو وہ الْكَبِيْرُ فَيَسْمَعُهَا مُسْتَرِقُ السَّمْعِ وَمُسْتَرِقُ السَّمْع هَكَذَا بَعْضُةُ کہتے ہیں: تمہارے رب نے کیا کہا ہے ؟ جس سے پوچھتے ہیں وہ کہتا ہے حق بات ہی فرمائی ہے اور وہ فَوْقَ بَعْضٍ وَوَصَفَ سُفْيَانُ بِكَفِّهِ بہت بلند مرتبہ اور عالیشان ذات ہے ، تب چوری فَحَرَفَهَا وَبَدَّدَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ فَيَسْمَعُ سے سنے والا بات سن لیتا ہے۔اور چوری سے سننے الْكَلِمَةَ فَيُلْقِيْهَا إِلَى مَنْ تَحْتَهُ ثُمَّ والے اس طرح ایک دوسرے کے اوپر ہوتے يُلْقِيْهَا الْآخَرُ إِلَى مَنْ تَحْتَهُ حَتَّی ہیں۔اور سفیان نے اپنے ہاتھ کے اشارہ سے يُلْقِيَهَا عَلَى لِسَانِ السَّاحِرِ أَوِ الْكَاهِنِ (اسے) بیان کیا۔انہوں نے اپنے ہاتھ کی انگلیوں فَرُبَّمَا أَدْرَكَ الشَّهَابُ قَبْلَ أَنْ يُلْقِيَهَا کو اس طرح کھولا کہ ایک دوسرے کے اوپر تھی۔وَرُبَّمَا أَلْقَاهَا قَبْلَ أَنْ يُدْرِكَهُ فَيَكْذِبُ پھر وہ کوئی ایک کلمہ بین لیتا ہے اور وہ اسے اپنے مَعَهَا مِائَةَ كَذْبَةٍ فَيُقَالُ أَلَيْسَ قَدْ سے نیچے والے ساتھی کو پہنچا دیتا ہے۔پھر وہ دوسرا اُسے اپنے نیچے والے کو پہنچا دیتا ہے یہاں قَالَ لَنَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا كَذَا وَكَذَا تک کہ وہ ساحر یا کاہن کی زبان پر آ جاتا ہے۔فَيُصَدَّقُ بِتِلْكَ الْكَلِمَةِ الَّتِي سَمِعَ کبھی تو شہاب اسے پہنچانے سے پہلے پکڑ لیتا ہے اور کبھی وہ پکڑے جانے سے پہلے پہنچا لیتا ہے۔مِنَ السَّمَاءِ۔أطرافه: ٤٧٠١، ٧٤٨١۔تو وہ ( کا ہن) سو جھوٹ اس کے ساتھ ملا کر بولتا ہے۔پھر اگر اُس کی تصدیق ہوتی ہے ) تو کہا جاتا ہے: کیا اس نے ہمیں فلاں فلاں دن ایسا ایسا نہیں کہا تھا۔پس اُس کلمہ کی وجہ سے جو اُس نے آسمان سے سنا تھا، اُس کی تصدیق ہوتی ہے۔فتح الباری مطبوعہ بولاق میں الفاظ وَمُسْتَرِقُوا الشمع ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ حاشیہ صفحہ ۶۸۳) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔