صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 216 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 216

صحيح البخاری جلد MY ۶۵ - کتاب التفسير اسبا کہتے ہیں۔اور یہی لفظ زبان اردو میں بھی استعمال ہوتا ہے علاوہ ازیں العدم سخت بارش کو بھی کہتے ہیں جو تباہ کن سیلابوں کا سبب ہو۔( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۶۸۱) مذکورہ بالا سبھی معنی درست ہیں۔وَقَالَ عَمْرُو بْنُ شُرَحْبِيْلَ : اہل یمن کی زبان میں عدم ، مسناة کو کہتے ہیں۔بند جو سیلاب کے سامنے بنائے جائیں تا پانی جمع ہو تو پھر چر سا سے نالیوں کے ذریعے کھیتوں میں پہنچایا جائے۔ان نالیوں کو سوانی کہتے ہیں جو جمع ہے سائیة کی اور جن کھیتوں کی اس طریق سے آبپاشی کی جائے وہاں کی زمین کو بھی مُسَنَاة کہتے ہیں۔عمرو بن شرحبیل کی یہ شرح سعید بن منصور سے موصولاً مروی ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۶۸۱) (لسان العرب- سنو) وَقَالَ غَيْرُهُ الْعَرِمِ : الوَادِي عمرو کے علاوہ اوروں نے کہا کہ العدم وادی کو کہتے ہیں۔یہ قول عطاء سے مروی ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۶۸۱) الشابغات: پورے قدوقامت کی زرہیں۔فرماتا ہے: ان اعمل سبغت وَقَدِرُ فِي الشَّرْدِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيره (سبأ: ۱۲) ( اور ہم نے داؤد سے کہا) کہ پورے قد و قامت کی زر ہیں بناؤ اور ان کے حلقے ٹنگ رکھو اور عمل صالح بجالاؤ۔میں تمہارے اعمال کو خوب دیکھنے والا ہوں۔سخت جان دشمن کے ساتھ مقابلہ تھا اور اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی یا القاء حالات کے تقاضا کے مطابق شدید دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے مذکورہ بالا ارشاد فرمایا اور عمل صالح وہی ہے جو ایمان کے مطابق اور حالات کے تقاضا کو پورا کرنے والا ہو۔وَقَالَ مُجَاهِدٌ يُجَازَی: بمعنی يُعَاقَب۔مجاہد کی یہ شرح بسند ابن ابی نجیح ، ابن ابی حاتم نے نقل کی ہے اور اس کے معنی ہیں عمل کے مطابق جزا دی جاتی ہے۔فرماتا ہے: ذلِكَ جَزَيْنَهُم بِمَا كَفَرُوا وَ هَلْ تُجْزِفَ إِلَّا الْكَفُورَ (سبأ: ۱۸) یہ سزا ہم نے انہیں ان کی ناشکری کی وجہ سے دی اور ہم نا شکر گزاروں کو ہی ایسی سزاد یا کرتے ہیں۔اعظم بِوَاحِدَةٍ : میں تمہیں ایک ہی بات کی نصیحت کرتا ہوں یعنی اللہ تعالی کی اطاعت کی۔یہ شرح بھی مذکورہ بالا سند سے مجاہد ہی سے منقول ہے۔فرماتا ہے : قُلْ إِنَّمَا أَعِظُكُمْ بِوَاحِدَةٍ أَنْ تَقُومُوا لِلَّهِ مَثْنَى وَفُرَادَى ثُمَّ تَتَفَكَّرُوا مَا بِصَاحِبِكُمْ مِنْ جِنَّةِ إِنْ هُوَ إِلَّا نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَى عَذَابٍ شَدِیده (سبا: ۴۷) کہہ میں تمہیں ایک ہی بات کی نصیحت کرتا ہوں یہ کہ تم اللہ کے لئے دو دو اور اکیلے اکیلے کھڑے ہو جاؤ اور پھر غور کرو۔تمہارے ساتھی کو جنون نہیں وہ تو ایک سخت عذاب آنے سے پہلے تمہیں ہوشیار کرنے والا ہے۔التناوش: آخرت سے دنیا میں واپسی۔اس سے یہ آیت مراد ہے: وَقَالُوا آمَنَّا بِهِ وَأَنِّى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مكان بعيده (سبأ: ۵۳) اور انہوں نے کہا: اس بات پر ایمان لے آئے ہیں اور انہیں اتنی دور جا کر ایمان کیونکر حاصل ہو سکتا ہے (اب لوٹنا ان کے لئے ممکن نہیں۔) اس کے بعد آیت ۵۵ میں فرماتا ہے: وَحِيْلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ كَمَا فُعِلَ بِأَشْيَاعِهِمْ مِنْ قَبْلُ إِنَّهُمْ كَانُوا فِي شَدٍ مُرِيبٍ (سبأ: ۵۵) اور ان کے اور ان کی خواہشات کے درمیان روکیں ڈال دی گئیں۔اسی طرح جیسے ان سے پہلے ان کے ہم جنسوں کے ساتھ کیا گیا۔وہ شک میں ہیں جو بے چین کرنے والا ہے یعنی ان کی خواہشیں پوری نہیں ہوں گی۔وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسِ كَالْجَوَابِيْ: حوضوں کی مانند۔الجواب کا لفظ اس آیت میں آیا ہے: يَعْمَلُونَ لَهُ مَا يَشَاءُ