صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 215 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 215

۲۱۵ ۶۵ - كتاب التفسير اسبأ صحيح البخاری جلد اسلوب بیان قرآن مجید سے مخصوص ہے اور اس کے یہ معنی نہیں کہ وہ اپنی زبان سے ان الفاظ میں دعائیں کیا کرتے تھے بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ انہوں نے اپنی بدکاریوں اور ظلموں کی وجہ سے اس پاداش کا تقاضا کیا۔وَقَالَ مُجَاهِدٌ لَا يَعْزُبُ : لفظ يَعُزُبُ کا تعلق اس آیت سے ہے : وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا لَا تَأْتِينَا السَّاعَةُ قُل عَلى وَرَبِّي لَتَأْتِيَنَّكُمُ علمِ الْغَيْبِ لَا يَعُزُبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَةٍ فِي السَّمواتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ وَلَا أَصْغَرُ مِنْ ذَلِكَ وَلَا أَكْبَرُ إِلَّا فِي كِتَبٍ مُّبِينٍ (سبأ: (۴) اور کفار نے کہا: البہی محاسبہ کی تباہ کن گھڑی ہم پر نہیں آئے گی۔کہہ ، نہیں بلکہ مجھے اپنے رب کی قسم ہے ضرور ضرور وہ گھڑی تم پر آئے گی۔وہ غیب کا جانے والا ہے۔ذرہ بھر بھی اس سے چھپا ہوا نہیں نہ آسمانوں میں اور نہ زمینوں میں، نہ اس سے چھوٹی چیز نہ بڑی مگر وہ اعمال نامے میں محفوظ ہے جو اسے ظاہر کر دینے والی ہے۔اس آیت میں الساعة سے مراد قیامت صغریٰ بھی ہے اور قیامت کبریٰ بھی۔قیامت صغریٰ کی گھڑی افراد اور قوموں کے لئے اسی دنیا میں قائم ہوتی ہے جیسا کہ مفسرین کو اس شرح کے بارے میں اتفاق ہے۔مذکورہ بالا آیت میں الساعة سے مراد عربوں کی پاداش سے متعلق محاسبہ کی گھڑی ہے۔بڑے زور دار الفاظ میں اس کے قائم ہونے کی پیشگوئی کی گئی ہے اور وہ برپا ہوئی لیکن سابقہ قوموں کی طرح وہ تباہ کن نہیں تھی۔ان میں سے شریروں نے سزا پائی اور ان کے قصے کتب احادیث اور تفسیروں میں محفوظ ہیں۔لیکن وہی گھڑی ان کی زندگی کا باعث ہوئی۔اس کی بڑی وجہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود مبارک کا رحمتہ اللعالمین ہونا ہے۔اس بارے میں آپ کا ایک مشہور قول ہے: بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةَ كَهَائیں۔یعنی میری بعثت اور وہ گھڑی یوں ہے۔اس ارشاد کے ساتھ اپنی دو انگلیوں سے بتایا کہ جس طرح سبابہ اور اس کے ساتھ والی۔ان الفاظ کا مفہوم یہ بیان کیا جاتا ہے کہ وہ گھڑی قریب ہے لیکن اس اشارے سے یہ بھی پایا جاتا ہے کہ میرا وجود اس گھڑی کے سامنے اسی طرح روک ہے جس طرح سبابہ انگلی ملحقہ انگلی کے لئے۔اس تعلق میں یہ بتانا ضروری ہے کہ عذاب الہی کے اندر رحمت ربانی کار فرما ہوتی ہے۔ہمارے مبلغین کو چاہیے کہ جہاں وہ انذاری پیشگوئیوں کو بیان کریں اس کے ساتھ ہی اس رحمت ربانی کا بھی ذکر کریں جو سزاؤں کی صورت و شکل میں کار فرما ہوتی ہے۔چنانچہ ہمارے زمانے کے نذیر ربانی نے جہاں عذاب الہی کے بارے میں لرزا دینے والے الفاظ میں ذکر فرمایا ہے وہاں اس کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیشگوئی کا بھی ذکر کیا ہے جس میں یہ خوشخبری دی گئی ہے کہ سورج مغرب کی طرف سے طلوع کرے گا اور اس سے مراد اسلامی طلوع آفتاب ہے یعنی مسیحی اقوام مغربیہ آخر اسلام کی طرف رجوع کریں گی۔یہ عظیم الشان پیشگوئی ان گوناں گوں عذابوں کے بیچوں بیچ بھی آشکار ہوگی۔ہمارے رحمن اور رحیم رب العالمین کو اپنے عاجز بندگان کی سزا سے کیا خوشی ہو سکتی ہے۔ایسا تصور نہایت ہی بھونڈا ہے۔سَيْلَ الْعَرِمِ : عَدِم اسم جمع ہے۔بعض کے نزدیک اس کا مفرد نہیں لیکن ابو عبیدہ نے اس کا مفرد عَرِمَةٌ بتایا ہے۔عرم کے معنی بند جو کسی وادی میں برساتی پانی کو روکنے اور آبپاشی کے کام میں لانے کے لئے بنایا جائے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۶۸۲) جیسے آج کل بھی بڑے پیمانے پر یہ بند بنائے جاتے ہیں اور انہیں انگریزی میں (Dam) (صحیح البخاری، کتاب الرقاق، باب قول النبي ﷺ بعثتُ أَنا وَالسَّاعَة كَهاتين، روایت نمبر ۶۵۰۴)