صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 214
صحیح البخاری جلد ۲۱۴ ۶۵ - كتاب التفسير / سبأ ان کے گناہوں کی وجہ سے درد ناک سزا ہے۔ اور بِمُعْجِزِینَ سے یہ آیت مراد ہے: وَمَا أَنْتُمْ بِمُعْجِزِينَ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَمَا لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ وَلِي وَلَا نَصِيرٍ (العنكبوت: (۲۳) اور تم ہرگز مغلوب کرنے والے نہیں زمین میں اور نہ آسمان میں اور اللہ کے سوا تمہارا نہ کوئی دوست ہوگا نہ مددگار ۔ وَمَا أَنْتُمْ بِمُعْجِزِینَ کا فقرہ اسی مفہوم میں کئی بار آیا ہے۔ معشار بمعنی دسواں حصہ اس آیت میں آیا ہے: وَ كَذَّبَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَمَا بَلَغُوا مِعْشَارَ مَا آتَيْنَهُمْ فَكَذَّبُوا رُسُلِي فَكَيْفَ كَانَ نَكِيرِ ( سبأ: (سبأ: (۴۶) اور جو جو اُن سے پہلے تھے ان انہوں نے (اپنے رسولوں کو جھٹلایا حالانکہ اس زمانے کے لوگ ، جو اُنہیں ہم نے طاقت دی تھی اس کے دسویں حصہ تک بھی نہیں پہنچے سو انہوں نے میرے رسولوں کی تکذیب کی اور اس انکار کی کیسی سزا ہوئی۔ الأكل : بمعنی پھل ۔ فرماتا ہے : فَأَعْرَضُوا فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ سَيْلَ الْعَرِمِ وَ بَدَّلْنُهُمْ بِجَنَّتَيْهِمْ جَنَّتَيْنِ ذَوَاتَى اكُل خَيْطٍ وَ اثْلٍ وَ شَيْءٍ مِنْ سِدْرٍ قَلِيلٍ ) ( سبأ : ۱۷) پھر انہوں نے حق سے اعراض کیا تو ہم نے ان پر ایسا سیلاب بھیجا جو ہر شے کو تباہ کرنے والا تھا اور ہم نے ان کے اعلیٰ درجے کے باغات کی جگہ ان کو دو ایسے باغ دیئے جن کے پھل بدمزہ تھے اور جن میں جھاؤ اور چند ایک بیریاں تھیں۔ جیسا کہ بتایا جا چکا ہے کہ مملکت سبا میں فلسطین ساحل عرب مع یمن شامل تھا اور : عدن سے خلیج فارس اور مشرقی ساحل عرب بھی۔ تباہی آنے کے بعد عرب آ ، آزاد ہو گئے اور سلطنت کی آبادیاں ویران ہو گئیں۔ اسی طرح سلطنت سلیمان بھی ان کے بیٹے رحبعام کی نالائقی اور حماقت کی وجہ سے۔ اس کی سلطنت میں حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کے بعد جگہ جگہ بغاوتیں ہوئیں۔ یہ دنیا دار شخص تھا اسی لیے اسے دابۃ الارض کہا گیا ہے یعنی زمینی کیڑا۔ اس کے زمانے میں بنی اسرائیل جو موحد قوم تھی مصریوں کی طرح گوسالہ پرستی کرنے لگی اور آخر اللہ تعالیٰ کے غضب و قہر کا مورد بنی۔ سورۃ سبا کی آیت ۱۵ میں اسی کا ذکر ہے اور اس کے بعد اگلی آیت میں سلطنت سبا کی تباہی و بربادی کا ذکر ہے جس سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ سے نیکو کار نیک بدلہ پاتے ہیں اور بد کار برا بدلہ۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی سلطنت کی تباہی کا ذکر سلاطین اول باب ۱۲ میں ملاحظہ ہو۔ بعد وبعد ( باب مفاعله و تفعیل) ایک ہی مفہوم میں ہیں: فَقَالُوا رَبَّنَا بَعِدْ بَيْنَ أَسْفَارِنَا وَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ فَجَعَلْنَهُمْ أَحَادِيثَ وَ مَزَقْنَهُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَتٍ لِكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ (سبأ: ۲۰) اور انہوں نے کہا: اے ہمارے رب ! ہمارے سفروں کو دور دراز کر دے اور انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا سو ہم نے انہیں افسانے بنا دیا اور انہیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ یقیناً اس میں بہت بڑے نشانات ہیں ہر اُس شخص کے لئے جو خدا تعالیٰ کی اطاعت ہمیشہ کرنے والا ہے اور اس کے انعامات پر شکر گزار ہے۔ یعنی سبز و شاداب آبادیاں اجڑنے کے بعد اور ساحل سمندر پر قبضہ اٹھنے سے بحری و بری سفر ان کے لئے لمبے اور تکلیف دہ ہو گئے اور ان کی حکومت کا ایسا نام و نشان مٹا کہ قصے کہانیوں کے سوا اس کا کوئی تذکرہ باقی نہ رہا۔ اُنہیں افسانہ دہر بنا دیا گیا۔ فَقَالُوا رَبَّنَا بَعِدْ بَيْنَ أَسْفَارِنَا ۔ یہ