صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 213
صحیح البخاری جلد ٢٤٣ ۶۵ - كتاب التفسير / سبأ الْوَادِي السَّابِغَاتُ الدُّرُوْعُ وَقَالَ اس بند کی وجہ سے سرخ پانی نہیں تھا بلکہ سزا کی مُجَاهِدٌ يُجَازَى يُعَاقَبُ۔ أَعِظُكُم صورت میں اللہ تعالیٰ وہ سیلاب اُن پر لے آیا تھا بِوَاحِدَةٍ (سبأ : ٤٧ ) بِطَاعَةِ اللهِ ۔ مَثْنى اور جہاں چاہا اس نے اسے بہایا۔ عمرو بن شرحبیل وفرادى (سبأ : ٤٧) وَاحِدٌ وَاثْنَيْنِ، نے کہا : الْعَرِمِ اہلِ یمن کی زبان میں بند کو کہتے التناوش (سبأ : ٥٣) الرَّدُّ مِنَ الْآخِرَةِ ہیں اور ان کے سوا اوروں نے کہا: الْعَرمِ وادی إِلَى الدُّنْيَا وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ (سبأ: ٥٥) کا نام تھا ۔ السَّابِعَات کے معنی ہیں زرہیں۔ اور مِنْ مَالٍ أَوْ وَلَدٍ أَوْ زَهْرَةِ بِأَشْيَاعِهِمْ مجاہد نے کہا: مجازی سزا دیا جاتا ہے یا دیا جائے گا۔ أَعِظُكُم بِوَاحِدَةٍ سے مراد یہ ہے کہ میں (سبأ : ٥٥) بِأَمْثَالِهِمْ۔ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ 71 تمہیں صرف ایک ہی بات یعنی اطاعت الہی کی كَالْجَوَابِيْ كَالْجَوْبَةِ مِنَ الْأَرْضِ۔ نصیحت کرتا ہوں۔ مَثْنی و فرادی دو دو اور ایک الْخَمْطُ الْأَرَاكُ وَالْأَثَلُ الطَّرْفَاءُ، الْعَرِم (سبأ: ١٧) الشَّدِيدُ۔ ایک ہو کر ۔ التَّناوُش سے مراد ہے آخرت سے کوٹ کر دنیا میں آنا ۔ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ ۔ تھون سے مراد مال و اولاد اور (دنیا کی) زیب و زینت ہے جس کی وہ خواہش کرتے ہیں۔ با شیاعِهِمْ کے معنی ہیں ان کی مانند۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا: کانجوابی کے معنی ہیں زمین میں حوضوں کی طرح الخبط : پیلو کے درخت اور الْأَوَّل یعنی جھاؤ الْعَرِمِ کے معنی ہیں شدید، سخت، نہایت مضبوط تشریح: سورۃ سبا بھی ابتدائی مکی سورتوں میں سے ہے اور اس کا موضوع قوموں کی تباہی کی گھڑی اور اس کے اسباب ہیں۔ جب یہ گھڑی آتی ہے تو انسان کے حیلے اور وسیلے سب ختم ہو جاتے ہیں اور وہ بے بس ہو جاتا ہے۔ الہی محاسبہ سے متعلق یہ تقدیر دنیا و آخرت دونوں میں جاری ہے اور افراد اور اقوام دونوں پر حاوی ہے۔ مُعْجِزِینَ سے یہ آیت مراد ہے: وَالَّذِينَ سَعَوْ فِي ايْتِنَا مُعْجِزِينَ أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مِنْ رِجْرٍ أَلِيمٌ ۔ (سبأ: ۶) وہ لوگ جو ہمارے نشانوں کے بارے میں ہمیں مغلوب کرنے کی کوشش کرتے ہیں انہی لوگوں کے لئے