صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 213 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 213

صحيح البخاری جلد ٢١٣ ۶۵ - کتاب التفسير اسبا الْوَادِي السَّابِغَاتُ الدُّرُوْعُ وَقَالَ اس بند کی وجہ سے سرخ پانی نہیں تھا بلکہ سزا کی مُجَاهِدٌ يُجَازَى يُعَاقَبُ أَعِظُكُم صورت میں اللہ تعالیٰ وہ سیلاب اُن پر لے آیا تھا بِوَاحِدَةٍ ( سبأ : ٤٧) بِطَاعَةِ اللهِ مَثْنٰی اور جہاں چاہا اس نے اسے بہایا۔عمرو بن شرحبیل وفرادى (سبأ : ٤٧) وَاحِدٌ وَاثْنَيْن نے کہا: العدم اہل یمن کی زبان میں بند کو کہتے التَّنَاوُشُ (سبأ : ٥٣) الرَّدُّ مِنَ الْآخِرَةِ ہیں اور ان کے سوا اوروں نے کہا: العدم وادی إِلَى الدُّنْيَا۔وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ (سبأ: ٥٥) کا نام تھا۔الشابغات کے معنی ہیں زرہیں۔اور مِنْ مَالٍ أَوْ وَلَدٍ أَوْ زَهْرَةٍ بِأَشْيَاعِهِمْ مجاہد نے کہا: ئیجازی سزا دیا جاتا ہے یا دیا جائے گا۔اعظم بِوَاحِدَةٍ سے مراد یہ ہے کہ میں (سبأ : (٥٥) بِأَمْثَالِهِمْ۔وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ كَالْجَوَابِيْ كَالْجَوْبَةِ مِنَ الْأَرْضِ۔تمہیں صرف ایک ہی بات یعنی اطاعت الہی کی الْحَمْطُ الْأَرَالُ۔وَالْأَثَلُ الطَّرْفَاءُ، الْعَرِم (سبأ: ١٧) الشَّدِيدُ۔نصیحت کرتا ہوں۔مثنی و فرادی دو دو اور ایک ایک ہو کر۔التناوش سے مراد ہے آخرت سے کوٹ کر دنیا میں آنا۔وَ بَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ سے مراد مال و اولاد اور (دنیا کی) زیب و زینت ہے جس کی وہ خواہش کرتے ہیں۔ہاشیاعِھم کے معنی ہیں ان کی مانند۔حضرت ابن عباس نے فرمایا: كالجوابی کے معنی ہیں زمین میں حوضوں کی طرح۔الخيط: پیلو کے درخت اور الْأَثَلُ یعنی جھاؤ۔الْعَدِمِ کے معنی ہیں شدید، سخت، نہایت مضبوط تشریح : سورۃ سبا بھی ابتدائی کی سورتوں میں سے ہے اور اس کا موضوع قوموں کی تباہی کی گھٹڑی اور اس کے اسباب ہیں۔جب یہ گھڑی آتی ہے تو انسان کے حیلے اور وسیلے سب ختم ہو جاتے ہیں اور وہ بے بس ہو جاتا ہے۔الہی محاسبہ سے متعلق یہ تقدیر دنیا و آخرت دونوں میں جاری ہے اور افراد اور اقوام دونوں پر حاوی ہے۔معجزِین سے یہ آیت مراد ہے: وَالَّذِينَ سَعَونِ ايْتِنَا مُعْجِزِينَ أَولَكَ لَهُمْ عَذَابٌ مِنْ رِجْزِ اليمن (سبأ: ١) وہ لوگ جو ہمارے نشانوں کے بارے میں ہمیں مغلوب کرنے کی کوشش کرتے ہیں انہی لوگوں کے لئے