صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 212
صحيح البخاری جلد وو ۲۱۲ ٣٤ سُورَةُ سَبَا ۶۵ - کتاب التفسير اسبأ وو يُقَالُ مُعْجِزِينَ (سبأ : ٦) مُسَابِقِینَ کہا جاتا ہے : مُعْجِزِینَ کے معنی ہیں آگے بڑھنے بِمُعْجِزِينَ (الزمر: ٥٢) بِفَائِتِينَ والے، مُعْجِزِینَ کے معنی ہیں: ہاتھ سے نکل جانے مُعَاجِزِيَّ مُسَابِقِيَّ۔سَبَقُوا (الأنفال:٦٠ والے - مُعَاجِزِی یعنی مجھ پر سبقت لے جانے فَاتُوْا لَا يُعْجِزُونَ (الأنفال: ٦٠) لا والے سَبَقُوا وہ (ہمارے) ہاتھ سے نکل گئے۔يَفُوْتُوْنَ۔يَسْبِقُونَا (العنكبوت: ٥) لَا يُعْجِذُونَ ہمارے ہاتھ سے نکل نہیں سکتے۔يُعْجِزُوْنَا قَوْلُهُ بِمُعْجِزِينَ (الزمر : ٥٢) يَسْبِقُونَا یعنی وہ ہمارے ہاتھ سے نکل سکیں گے۔بِفَائِتِيْنَ وَمَعْنَى مُعْجِزِینَ (سبأ: ٦) اللہ تعالیٰ کا فرمانا کہ وَمَا هُمْ بِمُعْجِزِينَ انہی مُغَالِبِيْنَ يُرِيدُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَنْ معنوں میں ہے یعنی وہ ہمارے قابو سے ہرگز نکلنے يُظْهِرَ عَجْزَ صَاحِبِهِ مِعْشَار (سبأ: ٤٦) والے نہیں اور مُعْجِزِینَ کے بھی یہی معنی ہیں کہ وہ ایک دوسرے پر غالب آنے والے ہوں۔عُشْرَ، يُقَالُ الْأُكُلُ الثَّمَرَةُ۔يُعِدُ یعنی ان میں سے ہر ایک چاہتا ہے کہ اس کا مد مقابل اس کے سامنے اپنے عجز کا اظہار کرے۔معشار یعنی دسواں حصہ۔الأُكُلُ یعنی پھل۔بعد اور بعد کے ایک ہی معنی ہیں یعنی دور کر۔أَرْسَلَهُ اللهُ فِي السُّدِ فَشَقَّهُ وَهَدَمَهُ اور مجاہد نے کہا: لَا يَعْزُبُ یعنی اس سے پوشیدہ وَحَفَرَ الْوَادِيَ فَارْتَفَعَتَا عَنِ الْجَنْبَتَيْنِ نہیں ہوتا۔سَيْلَ الْعَدِمِ سے مراد ہے بند۔یہ وَغَابَ عَنْهُمَا الْمَاءُ فَيَبِسَتَا وَلَمْ (عذاب) سرخ رنگ کا سیلاب تھا جو اللہ نے اس يَكُنِ الْمَاءُ الْأَحْمَرُ مِنَ السُّدِ وَلَكِنْ بند میں بھیجا جس نے اسے پھاڑ ڈالا اور گرا دیا كَانَ عَذَابًا أَرْسَلَهُ اللهُ عَلَيْهِمْ مِنْ اور وادی میں گڑھے ڈال دیئے اور اس بند کے حَيْثُ شَاءَ۔وَقَالَ عَمْرُو بْنُ شُرَحْبِيْلَ کناروں سے بلند ہوا اور ادھر اُدھر پھیل گیا۔جب الْعَرِمِ ( سبأ : ١٧) الْمُسَنَّاةُ بِلَحْنِ أَهْلِ پانی غائب ہوا تو اس کے اطراف کے دونوں الْيَمَنِ۔وَقَالَ غَيْرُهُ الْعَرِمِ (سبأ: ۱۷) باغ خشک ہو گئے اور ان کا نام و نشان مٹ گیا۔(سبأ :٢٠) وَبَعِدْ وَاحِدٌ۔وَقَالَ مُجَاهِدٌ لَا يَعُزُبُ (سبأ:٤) لَا يَغِيْبُ۔سَيْلَ الْعَرِمِ (سبأ : ١٧) السُّدُّ مَاءً أَحْمَرُ