صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 211
صحيح البخاری جلد ۶۵ - كتاب التفسير الأحزاب بھی اس کے لئے خاص الخاص دعائیں کرو اور سلامتی کی دعائیں خوب مانگتے رہو۔روایات زیر باب میں اللہ تعالیٰ، ملائکہ اور مومنوں کے درود کی الگ الگ صورت اور اس کا طریق بیان کیا گیا ہے۔دعا کا یہ حکم مثبت ہے۔باب ! کی معنونہ آیت لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ اذوا موسی میں سلبی حکم بیان ہوا ہے کہ آنحضرت صلی علیه کلم کی شان عظمت ماب کے خلاف کوئی نازیبا بات منسوب نہ کی جائے۔بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلاف نازیبا باتیں کی تھیں جن سے وہ آخر بڑی کئے گئے۔اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی طاہر و مطہر ثابت ہوں گے۔فَالْحَمْدُ للہ۔جو آپ کی خلاف شان باتیں اپنوں اور غیروں نے ناسمجھی کی وجہ سے گھڑی تھیں واقعات صحابہ کرام اور آپ کے خدام کے ذریعہ سے بالکل صاف کی گئیں اور بجائے اس کے جو صلہ آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملا ہے وہ یہ درود شریف کا ہدیہ ہے جو روزانہ کروڑوں بار بلکہ بے شمار بے حساب آپ پر شب و روز بصورت دعائے مستمرہ دہرایا جاتا ہے۔سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيم۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِہ۔کیا ہی لطیف اور پر حکمت و حقیقت وہ فقرہ جو بے ساختہ حضرت عائشہ کی زبان سے نکلا جو روایت نمبر ۴۷۸۸ میں مروی ہے: ما أَرَى رَبَّكَ إِلَّا يُسَارِعُ فِي هَوَاک یعنی میں دیکھتی ہوں کہ اللہ آپ کی خواہش جلدی سے پوری کر دیتا ہے۔آپ نے اپنی تمام خواہشیں اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے تابع کر دی تھیں اور یہی سب سے بڑا آپ کا امتیاز تھا اور تمام نبی اسی امتیاز کی وجہ سے تمام لوگوں سے ممتاز تھے کہ انہوں نے اپنا تن من دھن اللہ کے سپر د کر دیا تھا اور اسی وجہ سے خدا تعالیٰ جو انسان کے عمل کا پورا پورا بدلہ دیتا ہے ان کے ساتھ یہی سلوک کرتا کہ ان کی خواہش بھی پوری کرتا ہے جو بہر حال ایک اعلیٰ اور نیک خواہش اور اس کی رضا کے مطابق ہوتی ہے۔