صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 12 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 12

صحيح البخاری جلد ۶۵ - کتاب التفسير / كهيعص مذکورہ بالا الفاظ میں جو اب دیا۔زیر باب روایت معنون ہے۔امام بخاری نے جس آیت کے تحت اسے نقل کیا ہے وہ اس انقطاع وحی والی روایتوں کے منافی ہے۔کیونکہ اس امر میں دو باتوں کی صراحت ہے۔ایک یہ کہ مَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا ( مریم : ۶۵) کہ تیرا رب تجھے ہر گز بھولنے والا نہیں۔یہ خطاب رسول اللہ لی لی و کم سے ہے۔دوسرا یہ امر کہ اس آیت کا سیاق و سباق بھی روایت کے مضمون کی تائید نہیں کرتا۔اس سے پہلے عباد الرحمن کا ذکر ہے جن سے ایسی جنت کا وعدہ کیا گیا ہے، جس میں اُن کو صبح و شام رزق دیئے جانے کا ذکر ہے۔عباد الرحمن کی غذا کیا ہے ؟ اپنے محبوب حقیقی سے دائمی اتصال اور پیوند اور اس کے بعد جو آیت ہے اس میں بھی ایک عابد کو یہی تلقین کی گئی ہے کہ وہ اپنے معبود سے دائمی پیوند عبودیت قائم رکھے۔مزید بر آل وَمَا نَتَنَزِّلُ إِلَّا بِأمر ربك سے ظاہر ہے کہ اس میں صرف ایک جبرائیل کے آنے کا ذکر نہیں بلکہ ملائکۃ اللہ کے تنزل کا ذکر ہے۔لفظ تنزل کے معنی ہیں پے در پے آنا اور یہ ایسے نزول پر دلالت کرتا ہے جس میں دوام پایا جاتا ہے اور ملائکہ اللہ کا یہ نزول ایسے زمانہ نبوت سے تعلق رکھتا ہے جس میں کسی نبی کی بعثت کی وجہ سے ملائکۃ اللہ کا کثرت سے نزول ہوتا ہے۔یہ ایک نقطہ نظر ہے جو قابل غور ہے اور دوسرا نقطہ نظر ابن التین داؤدی کا ہے۔جس کا ذکر امام ابن حجر نے کیا ہے۔یعنی یہ کہ قرآن مجید ایسا کلام ہے جو حادث نہیں بلکہ قدیم ہے۔اور اگر اس کلام کی وحی میں انقطاع مانا جائے تو لاز مامانا پڑے گا کہ یہ کلام حادث ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۴۵) امام بخاری نے جس روایت کو مذکورہ بالا آیت کے تحت نقل کیا ہے اس میں انقطاع وحی کا ذکر تک نہیں بلکہ آنحضرت صلی الم کی اس خواہش کا ذکر ہے کہ جو ملاقاتیں اس وقت جبرائیل کی ہوتی ہیں ان سے زیادہ ملاقاتیں ہوں۔انقطاع وحی اور جبرائیل کے رُک جانے کا ذکر ابن مردویہ اور ابن اسحاق کی روایات میں ہے جو امام بخاری کی تحقیق میں مستند نہیں اور اس لئے اُنہوں نے قبول نہیں کیں۔امام ربانی حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس تعلق میں فرماتے ہیں کہ روح القدس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک لمحہ بھر کے لئے بھی کبھی جدا نہیں ہوا، بلکہ ہمیشہ ہر حالت میں آپ کا قرین اور رفیق تھا۔روح القدس اور جبرائیل کے نزول کی حقیقت بسط کے ساتھ بیان فرما کر آپ نے جبرائیلی انقطاع کے خیال کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی اور بے ادبی پر محمول کیا ہے۔آپ فرماتے ہیں: ایسا خیال کرنا کہ روح القدس کبھی انبیاء کو خالی چھوڑ کر آسمان پر چڑھ جاتا ہے صرف ایک دھوکہ ہے کہ جو بوجہ غلط فہمی نزول اور صعود کے معنوں کے دلوں میں متمکن ہو گیا ہے۔“ آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ حاشیه صفحه ۸۸)