صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 208
صحيح البخاری جلدا ۲۰۸ ۶۵ - كتاب التفسير الأحزاب باب ۱۰ : إِنَّ اللَّهَ وَمَلَيكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ - يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلَّمُوا تَسْلِيمًا (الأحزاب: ٥٧) اللہ تعالیٰ کا فرمانا: اللہ نبی (صلی علی کمی کو رحمت سے نوازتا ہے اور اس کے فرشتے نبی (صلی ) کے لئے دعائے رحمت کرتے ہیں اور اے مومنو! تم بھی اس کے لئے خاص طور پر دعائے رحمت کیا کرو اور اس کے لئے ہر قسم کی سلامتی چاہو قَالَ أَبُو الْعَالِيَةِ صَلَاةُ اللهِ ثَنَاؤُهُ عَلَيْهِ ابو العالیہ نے کہا: اللہ کی رحمت خاص یہ ہے کہ وہ عِنْدَ الْمَلَائِكَةِ وَصَلَاةُ الْمَلَائِكَةِ ملائکہ کے پاس اسے سراہتا ہے اور ملائکہ کی الدُّعَاءُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسِ يُصَلُّونَ صلوۃ یہ ہے کہ وہ (اللہ سے) دعا کرتے ہیں (کہ (الأحزاب: ٥٧) يُبَرِّكُونَ لَنُغْرِيَنَّكَ نبی رحمت مخصوصہ سے نوازا جائے۔) حضرت (الأحزاب: (٦١) لَنُسَلّطَنَّكَ۔ابن عباس نے فرمایا کہ يُصَلُّونَ کے یہ معنی ہیں کہ وہ برکت کی دعا کرتے ہیں۔لَنُخْرِيَنَّكَ یعنی ہم ضرور تمہیں مسلط کر دیں گے۔عُجْرَةَ رَضِيَ ٤٧٩٧: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى ۴۷۹۷: سعید بن یحی نے مجھے بتایا کہ میرے حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنِ الْحَكَمِ باپ یحی بن سعید ) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ كَعْبِ بْنِ مسعر بن کدام) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اللَّهُ عَنْهُ قِيْلَ يَا رَسُوْلَ حکم بن عتیبہ) سے، حکم نے (عبد الرحمن) بن اللهِ أَمَّا السَّلَامُ عَلَيْكَ فَقَدْ عَرَفْنَاهُ ابی لیلی سے، انہوں نے حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ آپ سے کہا گیا: یا رسول اللہ ! آپ کے لئے سلامتی کی دعا کرنا تو ہم نے سمجھ لیا آپ کے لئے رحمت کی دعا کیسے کیا مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ کریں؟ آپ نے فرمایا: یوں کہو : اے اللہ محمد اور إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيْدٌ۔اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى آل محمد کو خاص الخاص رحمت سے نواز جیسا کہ تو مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا نے (ابراہیم اور ) آل ابراہیم کو نوازا۔یقیناً فَكَيْفَ الصَّلَاةُ عَلَيْكَ قَالَ قُوْلُوْا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ