صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 207
صحيح البخاری جلد Y+z ۶۵ - كتاب التفسير الأحزاب وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لَهُ يَا رَسُوْلَ اللهِ إِنَّ ابو القعیں کی بیوی نے مجھے دودھ پلایا ہے۔نبی أَفْلَحَ أَخَا أَبِي الْقُعَيْسِ اسْتَأْذَنَ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے تو میں نے فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ حَتَّى أَسْتَأْذِنَكَ آپ سے کہا: یا رسول اللہ ! افلح ابو القعیں کے فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بھائی نے مجھ سے اجازت طلب کی تھی تو میں نے وَمَا مَنَعَكِ أَنْ تَأْذَنِيْنَ عَمُّكِ قُلْتُ يَا انہیں اجازت نہیں دی تا وقتیکہ میں آپ سے رَسُوْلَ اللهِ إِنَّ الرَّجُلَ لَيْسَ هُوَ اجازت لے لوں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أَرْضَعَنِي وَلَكِنْ أَرْضَعَتْنِي امْرَأَةُ أَبِي اپنے چا کو اجازت دینے سے تمہیں کس نے منع الْقُعَيْسِ فَقَالَ الذَنِي لَهُ فَإِنَّهُ عَمُّكِ کیا ہے۔میں نے کہا: یا رسول اللہ ! اس مرد نے تو تَرِبَتْ يَمِيْنُكِ۔قَالَ عُرْوَةُ فَلِذَلِكَ مجھے دودھ نہیں پلایا تھا بلکہ ابو القعیں کی بیوی نے كَانَتْ عَائِشَةُ تَقُوْلُ حَرِّمُوْا مِنَ مجھے دودھ پلایا ہے۔آپ نے فرمایا: ہائے تم نے الرَّضَاعَةِ مَا تُحَرِّمُوْنَ مِنَ النَّسَبِ۔یہ کیا کیا، اسے اندر آنے کی اجازت دو کیونکہ وہ تمہارے چچا ہیں۔عروہ نے کہا: اس لئے حضرت عائشہ کہا کرتی تھیں: رضاعت کی وجہ سے وہ (رشته) حرام سمجھو جو نسب کی وجہ سے حرام أطرافه : سمجھتے ہو۔-٥٢، ٦١٥٦۳۹ ،۰۱۱۱ ،۵۱۰۳ ،۲٦٤٤ : يح۔إن تُبْدُوا شَيْئًا أَوْ تُخْفُوهُ فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا۔۔۔۔امام بخاری کے نزد یک آیت نمبر ۵۵ کا تعلق آیت نمبر ۵۴ سے نہیں بلکہ آیت نمبر ۵۶ سے ہے۔اس لئے دونوں آیتوں کا حوالہ ایک باب میں اکٹھا دیا گیا ہے۔اس تصرف سے یہ ذہن نشین کرانا مقصود ہے کہ جن رشتوں سے پردہ نہ کرنے کی اجازت ہے اس میں یہ بات مد نظر رہے کہ حقیقی پر دہ تو دلوں کی حالت سے ہے جس سے اللہ تعالیٰ ناواقف نہیں اور اس کے لئے ہر انسان اس کے نزدیک جواب وہ ہے۔روایت زیر باب میں رضاعی رشتہ داروں کو بھی مستثنیات میں شامل کیا گیا ہے۔