صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 206
صحیح البخاری جلد !! ۲۰۶ ۶۵ - کتاب التفسير الأحزاب روایت نمبر ۴۷۹۱ سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض حالات کی وجہ سے پردہ کی ضرورت کے بارہ میں احساس پیدا ہو چکا تھا۔ باب کی باقی روایات میں مذکورہ بالا پانچ خلاف تہذیب باتوں ہی کا ذکر ہے اور بتایا گیا ہے کہ معاشرہ اسلامیہ کی صحت و سلامتی کو محفوظ رکھنے کی غرض سے پردے کا حکم نازل ہوا ہے جس سے آیت نمبر ۵۶ میں بعض اقرباء مستثنی کئے گئے ہیں۔ حضرت زینب کا واقعہ اسلامی پردے کے لئے بھی بطور تمہید مبارک ثابت ہوا۔ پر دے کی نسبت تفصیلی حکم سورۃ النور میں ہے اور اپنے موقع پر اس کی تفصیل بیان کی جائے گی۔ بَاب ۹ : إِنْ تُبْدُوا شَيْئًا أَوْ تُخْفُوهُ فَإِنَّ اللهَ كَانَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا لَا جُنَاحَ عَلَيْهِنَّ فِي أَبَا بِهِنَّ وَلَا ابْنَا بِهِنَّ وَ لَا إِخْوَانِهِنَّ وَلَا أَبْنَاءِ إِخْوَانِهِنَّ وَلَا أَبْنَاءِ أَخَوَاتِهِنَّ وَلَا نِسَا بِهِنَّ وَلَا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ ۚ وَاتَّقِينَ اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدًا (الأحزاب: ٥٥، ٥٦) اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ) اگر تم کوئی بات ظاہر کرو یا اسے چھپاؤ اللہ کو تو ہر شے کا خوب علم ہے۔ ان پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ اپنے باپوں، بیٹوں ، بھائیوں، اپنے بھتیجوں، بھانجوں اور اپنی عورتوں اور اپنی لونڈیوں کے سامنے ہوں اور وہ اللہ ہی کو اپنا سپر بنائیں۔ اللہ ہر چیز کا نگران ہے۔ ٤٧٩٦ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۴۷۹۶: ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنَا عُرْوَةُ بْنُ شعیب نے ہمیں خبر دی۔ زہری سے روایت ہے الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا که عروہ بن زبیر نے ہم سے بیان کیا کہ حضرت قَالَتْ اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ أَفْلَحُ أَخُو أَبِي عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں: حجاب کا حکم الْقُعَيْسِ بَعْدَمَا أُنْزِلَ الْحِجَابُ نازل ہونے کے بعد افلح نے جو ابو القعیں کا بھائی فَقُلْتُ لَا آذَنُ لَهُ حَتَّى أَسْتَأْذِنَ فِيْهِ (میرا ارضاعی چا) تھا میرے پاس اندر آنے کی النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ اجازت مانگی۔ میں نے کہا: میں انہیں اجازت أَخَاهُ أَبَا الْقُعَيْسِ لَيْسَ هُوَ أَرْضَعَنِي نہیں دوں گی جب تک کہ ان کی نسبت نبی وَلَكِنْ أَرْضَعَتْنِي امْرَأَةُ أَبِي الْقُعَيْسِ صلى اللہ علیہ وسلم سے نہ پوچھ لوں کیونکہ ان کے فَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ بھائی ابو القعیں ۔ ابو اسمیں نے تو مجھے دودھ نہیں پلایا تھا بلکہ