صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 205 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 205

صحيح البخاری جلد ۲۰۵ ۶۵ - كتاب التفسير الأحزاب لا تدخُلُوا بُيُوتَ النَّبِي إِلَّا أَن يُؤْذَنَ لَكُم۔۔۔۔: معنونہ آیت میں معاشرہ کی صحت و سلامتی کے بارے میں ایک اور ضروری ہدایت کا ذکر ہے۔جس طرح عورتوں کو تبرج الْجَاهِلِيَّةِ الأولى سے منع کیا گیا ہے اس کے بالمقابل نامحرم مردوں کو بھی ہدایت ہے کہ وہ بلا اجازت گھروں میں داخل نہ ہوں۔اس باب کے تحت روایت نمبر ۴۷۹۱ میں حضرت زینب بنت جحش کے ولیمہ کا ذکر ہے۔زو جنگها (الأحزاب: ۳۸) سے غلط طور پر سمجھا گیا ہے کہ آپ کا نکاح آسمان پر جبرائیل کے ذریعہ سے پڑھا گیا تھا بحالیکہ جیسا کہ بتایا جا چکا ہے اس میں مشیت و تقدیر الہی کا ذکر ہے جس پر حصہ آیت وَ كَانَ أَمُرُ اللَّهِ مَفْعُولاً دلالت کرتا ہے اور امر واقعہ یہ ہے کہ حضرت زینب سے نکاح شریعت کے مطابق ان کے حقیقی بھائی ابو احمد بن جحش کی ولایت میں چار سو درہم مہر پر پڑھا گیا تھا۔اور باقاعدہ ولیمہ کیا گیا جس کا ذکر کتاب النکاح (روایت نمبر ۵۱۶۶) میں بھی ہے۔بخاری اور مسلم کے دونوں کی روایتوں میں یہ واقعہ مذکور ہے اور مؤرخین کو بھی یہ واقعہ تسلیم ہے۔سے باب ۸ کی معنونہ آیت میں بغیر اجازت اندر آنے کی جہاں ممانعت ہے وہاں پس پردہ رہتے ہوئے سامان وغیرہ طلب کرنے کا ارشاد ہے اور دعوت سے فارغ ہونے پر گھر میں بیٹھے رہنے اور باتوں میں مشغول ہونے سے بھی منع کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ قبل از وقت آنے اور کھانے کے پکنے کا انتظار کرنے سے بھی روکا گیا ہے اور ہر غیر مہذبانہ حرکت سے بچنے کی ہدایت ہے جس سے صاحب خانہ کے جذبات مجروح ہوں۔یہ پانچوں باتیں تہذیب اخلاق سے متعلق ہیں۔اسلامی تعلیم کی ایک ایک شق ہر لحاظ سے کامل و مکمل ہے۔اس میں احتمالات تک کا سد باب کیا گیا ہے۔مثال کے لئے یہی آیت دیکھ لی جائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی موجودہ بیویوں میں سے نہ کسی کو طلاق دی نہ کسی آزاد عورت یا لونڈی سے شادی کی لیکن باوجود اس کے فرمایا کہ آپ کی مطلقہ بیویوں سے نکاح کرنا مناسب نہیں۔وَلا أَن تَنْكِحُوا ازْوَاجَهُ مِنْ بَعْدِة ابداا۔ظاہر ہے کہ آپ کی بیویوں سے نکاح کی صورت تبھی ہو سکتی ہے کہ آپ ان میں سے کسی کو طلاق دیں۔عقد نکاح میں رہتے ہوئے تو امہات المؤمنین چھوڑ کسی شخص کی بیوی سے بھی بحالت عقد نکاح کا سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا۔یہ اس طرح کی احتمالی صورت ہے جس کی ایک مثال آیت نمبر ۵۳ لا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاء مِن بعد میں گزر چکی ہے۔آپ کی بیویوں سے نکاح کئے جانے کی ممانعت آپؐ کی وفات کے بعد بھی قائم تھی اور اس ممانعت کی بڑی وجہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم امت کے روحانی باپ قرار دیئے گئے ہیں اور آپ کی بیویاں امہات المومنین۔ایسی حالت میں افراد امت کا اپنی روحانی ماؤں سے نکاح کا خیال آپ کے اور آپ کی بیویوں کے روحانی مقام عزت و احترام کے خلاف ہے۔آیت إِنَّ ذلِكُمْ كَانَ عِندَ اللهِ عظیما میں یہی وجہ بیان کی گئی ہے۔ل (السيرة النبوية لابن هشام، ذكر أزواجه ، زواجه بزینب بنت جحش، جزء ۲ صفحه ۶۴۴ ) (مسلم، کتاب النکاح باب زواج زينب بنت جحش و نزول الحجاب۔۔) الطبقات الكبرى لابن سعد، ذكر أزواج رسول الله ﷺ، زینب بنت جحش جزء ۸ صفحه ۸۳)