صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 204
صحيح البخاری جلد صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔۲۰۴ ۶۵ - كتاب التفسير الأحزاب انہوں نے حضرت انسؓ سے سنا۔حضرت انس نے نبی صلی ا ہم سے یہ بات مرفوعاً بیان کی۔أطرافه : ٤٧٩١، ٤٧٩٢، ٤۷۹۳، ٥١٥٤، ٥١٦، ٥١٦٦، ۵۱٦٨، ۵۱۷۰، ۵۱۷۱، ٥٤٦٦، ٦٢٣٨، ٦٢٣٩، ٦٢٧١، ٧٤٢١ ٤٧٩٥ : حَدَّثَنِي زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى :۴۷۹۵ زکریا بن یحی نے مجھ سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُوْ أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيْهِ ابو اسامہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ہشام سے، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔کہتی خَرَجَتْ سَوْدَةُ بَعْدَمَا ضُرِبَ الْحِجَابُ لِحَاجَتِهَا وَكَانَتِ امْرَأَةَ تھیں: پر دو کا حکم ہونے کے بعد حضرت سودہ اپنی حاجت کے لئے باہر گئیں اور وہ جسیم عورت جَسِيْمَةً لَا تَخْفَى عَلَى مَنْ يَعْرِفُهَا تھیں جو انہیں جانتا اس سے پوشیدہ نہ رہتیں۔فَرَآهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ يَا حضرت عمر بن خطاب نے ان کو دیکھ لیا اور کہا سَوْدَةُ أَمَا وَاللَّهِ مَا تَخْفَيْنَ عَلَيْنَا دیکھو سود ! اللہ کی قسم! آپ ہم سے چھپ نہیں فَانْظُرِي كَيْفَ تَخْرُجِيْنَ۔قَالَتْ سکتیں۔اب دیکھیں آپ کیونکر نکلیں گی۔کہتی فَانْكَفَأَتْ رَاجِعَةً وَرَسُوْلُ اللهِ صَلَّى تھیں: یہ سن کر حضرت سودہ لوٹ آئیں اور اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي وَإِنَّهُ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں تھے لَيَتَعَشَّى وَفِي يَدِهِ عَرْقٌ فَدَخَلَتْ اس وقت رات کا کھانا کھا رہے تھے۔آپ کے ہاتھ میں ایک ہڈی تھی۔حضرت سودہ اندر آئیں فَقَالَتْ يَا رَسُوْلَ اللهِ إِنِّي خَرَجْتُ اور انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! میں کسی حاجت لِبَعْضٍ حَاجَتِي فَقَالَ لِي عُمَرُ كَذَا کے لئے باہر گئی تھی تو عمر نے مجھ سے یوں کہا۔وَكَذَا قَالَتْ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ ثُمَّ رُفِعَ کہتی تھیں: اللہ نے آپ پر وحی کی۔جب (حالت عَنْهُ وَإِنَّ الْعَرْقَ فِي يَدِهِ مَا وَضَعَهُ وحی) آپ سے موقوف ہوئی اور وہ ہڈی آپ کے فَقَالَ إِنَّهُ قَدْ أُذِنَ لَكُنَّ أَنْ تَخْرُجْنَ ہاتھ میں تھی، آپ نے اسے نہیں رکھا اور فرمایا: تم (عورتوں) کو تو اجازت دے دی گئی ہے کہ لِحَاجَتِكُنَّ۔أطرافه : :١٤٦، ۱٤٧، ۵۲۳۷، ٦٢٤۰۔اپنی ضرورت کے لئے نکلا کریں۔