صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 11 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 11

صحيح البخاری جلد مریخ " ووو -۶۵ کتاب التفسير / كهيعص - واندرهم يوم الحسرةِ : يَوْمَ الْحَسْرَةِ سے مراد وہ قیامت صغریٰ کی گھڑی ہے جو دنیا میں قائم ہوگی اور جس میں عیسائی قوم سے شدید مواخذہ کرنے کا ذکر ہے۔یہ لوگ اپنے آپ کو گرفتار بلا دیکھ کر افسوس کریں گے۔اے کاش کہ وہ اپنے خالق سے محبت و اطاعت کا پیوند لگاتے اور اس کی خوشنودی حاصل کرتے۔یہ موقع انہوں نے ضائع کر دیا اور ناقدری کی پاداش میں وہ نعمتیں بھی ضائع کر دیں جو منعم علیہ گروہ سے مخصوص ہیں۔ہو سکتا ہے کہ یہ حسرت کا احساس جنتیوں کی حالت دیکھ کر انہیں ہو کہ انہیں محاسبہ اور دارو گیر کی شدت سے دائگی راحت حاصل ہو گئی ہے۔کاش وہ بھی ان جیسے اعمال بجالاتے اور ہمیشہ آرام دہ زندگی پاتے اور جہنم میں نہ ڈالے جاتے۔ممکن ہے کہ آنحضرت صلی اللہ ہم نے ان کے اس احساس حسرت کے تعلق میں یہ آیت پڑھی ہو۔پوری آیت مع ترجمہ گزر چکی ہے۔یہ روایت کتاب الرقاق باب نمبر ۵۰ میں بھی آئے گی۔بَاب ۲ : وَمَا نَتَنَزَّلُ الَّا بِاَمرِ رَبِّكَ (مريم : ٦٥) ( اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) اور ہم نہیں اترتے مگر تیرے رب کے حکم سے ٤٧٣١: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا ۴۷۳۱: ابونعیم (فضل بن دکین) نے ہم سے عُمَرُ بْنُ ذَرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي عَنْ بیان کیا کہ عمر بن ذر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ الله کہا: میں نے اپنے باپ سے سنا۔وہ سعید بن جبیر قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سے، سعید حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے تھے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلى الم نے جبرائیل سے پوچھا۔آپ جو ہم سے ملاقات کرنے آتے ہیں اس سے زیادہ بار ملاقات وَسَلَّمَ لِجِبْرِيلَ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَزُورَنَا أَكْثَرَ مِمَّا تَزُورُنَا فَنَزَلَتْ وَمَا نَتَنَزَّلُ الا بامرِ رَبَّكَ لَهُ مَا بَيْنَ أَيْدِينَا وَمَا کیوں نہیں کرتے۔تو یہ آیت نازل ہوئی: وَمَا خَلْفَنا (مريم : ٦٥ )۔اطرافه: ۳۲۱۸، ٧٤٥٥۔تتنزل الا۔۔اور ہم نہیں اترتے مگر تیرے ربّ کے حکم سے۔اس کا ہے جو ہمارے سامنے ہے اور جو ہمارے پیچھے ہے۔تشريح : وَمَا نَتَنَزِّلُ إِلَّا بِأَمْرِ رَيْكَ : اس آیت کے تعلق میں کئی ایک روایتیں مروی ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ جبرائیل کئی روز تک آنحضرت علی علیکم کے پاس آنے سے رکے رہے اور اس دوران وحی الہی آپ سے منقطع ہو گئی اور جب وہ آپ کے پاس آئے تو آپ کے دریافت کرنے پر جبرائیل نے