صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 199
صحيح البخاری جلد رَضِيَ ١٩٩ ۶۵ - كتاب التفسير الأحزاب ٤٧٩٠: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ عَنْ يَحْيَى :۴۷۹۰ مدد نے ہمیں بتایا۔انہوں نے يحجي عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ عُمَرُ ( بن سعيد قطان) سے، بجیا نے حمید (طویل) سے، اللهُ عَنْهُ قُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللهِ حمید نے حضرت انس سے روایت کی۔انہوں يَدْخُلُ عَلَيْكَ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ فَلَوْ نے کہا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے تھے: میں أَمَرْتَ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ بِالْحِجَابِ نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ کے پاس بھلے برے (آدمی ) آتے ہیں تو اگر آپ امہات المؤمنین کو فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ الْحِجَابِ۔أطرافه : ٤٠٢ ، ٤٤٨٣ ٤٩١٦ پردہ کرنے کے لئے فرمائیں (تو مناسب ہو گا۔) پھر اللہ نے حجاب کی آیت نازل کی۔٤٧٩١: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ۴۷۹۱: محمد بن عبد اللہ رقاشی نے ہم سے بیان کیا الرَّقَاشِيُّ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ که معتمرین سلیمان نے ہمیں بتایا۔انہوں نے قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُوْلُ حَدَّثَنَا کہا: میں نے اپنے باپ سے سنا۔وہ کہتے تھے: أَبُو مِجْلَرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ ابو مجلز نے ہمیں بتایا کہ حضرت انس بن مالک اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا تَزَوَّجَ رَسُوْلُ اللهِ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔انہوں نے کہا: صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ ابْنَةَ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جَحْشٍ دَعَا الْقَوْمَ فَطَعِمُوْا ثُمَّ زينب بنت جحش سے شادی کی۔تو لوگوں کو جَلَسُوْا يَتَحَدَّثُونَ وَإِذَا هُوَ يَتَأَهَّبُ دعوت دی۔انہوں نے کھانا کھایا اور پھر وہ بیٹھے لِلْقِيَامِ فَلَمْ يَقُومُوْا فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ باتیں کرنے لگے۔کیا دیکھتے ہیں کہ ایسا معلوم قَامَ فَلَمَّا قَامَ قَامَ مَنْ قَامَ وَقَعَدَ ثَلَاثَةُ ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی ا یکم اٹھنا چاہتے ہیں مگر نَفَرٍ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ لوگ نہ اٹھے۔جب آپ نے یہ دیکھا تو آپ وَسَلَّمَ لِيَدْخُلَ فَإِذَا الْقَوْمُ جُلُوسٌ ثُمَّ کھڑے ہو گئے۔جب آپ کھڑے ہوئے تو إِنَّهُمْ قَامُوْا فَانْطَلَقْتُ فَجِئْتُ لوگ اٹھ کر چلے گئے اور تین آدمی بیٹھے فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے کہ اندر جائیں