صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 197
صحیح البخاری جلد 192 ۶۵ کتاب التفسير الأحزاب طور پر اہتمام رکھنے والی خاتون تھیں۔اس تعلق میں خود حضرت عائشہ کی شہادت ہے کہ انہیں حضرت زینب پر ان کی خوبیوں پر رشک آتا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج امہات المؤمنین قرار دی گئی ہیں اور ان کے اسوۂ حسنہ میں ہمارے لئے اپنے خاندان کی اصلاح و تزکیہ نفس میں یہ سبق آموز نمونہ ہے کہ اگر ہم پختہ عزم و قوی ارادہ سے عمل پیرا ہوں تو اپنے معاشرہ کی صحت و اصلاح کے بارے میں ایک اہم خدمت بجالا سکتے ہیں جو معاشرہ اہتمام تربیت سے ترکیب پائے گا، اس کے افراد کے اوصاف حمیدہ آیت نمبر ۳۶ میں مفصل بیان ہوئے ہیں۔بوجہ طوالت یہاں درج نہیں کی جاتی۔قارئین اسے سورۃ الأحزاب میں غور سے دیکھیں۔یہ اوصاف تعداد میں دس ہیں اور جنہیں اگر اپنا یا جائے تو بلا مبالغہ معاشرہ اسلامیہ تمام دیگر معاشروں سے ممتاز و بے مثل نظر آئے گا۔بابے کی معنونہ آیت مع ترجمہ یہ ہے: تُرجِيْ مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُوَى إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ وَ مَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكَ ذَلِكَ ادنَى أَنْ تَقَرَ أَعْيُنُهُنَّ وَلَا يَحْزَنَ وَيَرْضَيْنَ بِمَا أَتَيْتَهُنَّ كُلُهُنَّ وَاللهُ يَعْلَمُ مَا فِي قُلُوبِكُمْ وَكَانَ اللهُ عَلِيمًا حَكِيمًا (الأحزاب: (۵۲) تو ان بیویوں میں سے جسے چاہے مہلت دے اور جسے چاہے اپنے پاس رکھے اور ان میں سے جسے چاہے الگ کر دے تجھ پر کوئی گناہ نہیں۔یہ امر اس بات کے زیادہ قریب ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔اور غم نہ کریں جو کچھ تو نے انہیں دیا ہے اس پر وہ سب راضی ہو جائیں۔اور اللہ جانتا ہے جو تمہارے دلوں میں ہے اور اللہ علیم وحلیم ہے۔اس آیت سے جس عدم پابندی کے بارے میں غلط استنباط کیا گیا ہے اس سے انگلی آیت میں اس کارڈ موجود ہے۔فرماتا ہے : لا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاءُ مِنْ بَعْدُ وَ لَا أَن تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ أَزْوَاجِ وَ لَوْ أَعْجَبَكَ حُسُنهُنَّ إِلَّا مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ وَ كَانَ اللهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ رَقِيبًا (الأحزاب: ۵۳) اس کے بعد تیرے لئے عورتوں سے نکاح کرنے کی اجازت نہیں اور نہ اس امر کی کہ موجودہ بیویوں کے بدلے میں دوسری بیویاں کی جائیں۔خواہ ان کا حسن تجھے کتنا ہی پسند کیوں نہ ہو سوائے ملک یمین عورت کے یعنی جس کا بحیثیت لونڈی تو مالک ہو۔اور اللہ ہر چیز کا خوب نگران ہے۔اس آیت میں ملک یمین عورت کی جو استثناء کی گئی ہے اس استثنائی اجازت سے بھی نحضرت علی ایم نے فائدہ نہیں اٹھایا۔مذکورہ بالا تینوں باتیں غلط مفہوم کو باطل ثابت کرتی ہیں۔(اس تعلق میں دیکھئے تفسیر صغیر سورۃ الاحزاب حواشی آیات نمبر ۵۲ ۵۳) یہاں یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ جب استثنائی حالت سے فائدہ نہیں اٹھانا تھا تو آیت میں اس کا ذکر کیوں؟ اس کا جواب عنقریب آئے گا۔(مسلم، كتاب فضائل الصحابة ، باب في فضل عائشة، روايت نمبر ۸۳)