صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 196
صحیح البخاری جلد !! ۱۹۶ ۶۵ - کتاب التفسير الأحزاب تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَ تُغْوِى إِلَيْكَ مَنْ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے کسی تَشَاءُ وَ مَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا زوجہ کی باری کے دن اجازت مانگا کرتے تھے۔ جُنَاحَ عَلَيْكَ (الأحزاب: ٥٢) فَقُلْتُ (معاذہ کہتے تھے :) میں نے حضرت عائشہ سے لَهَا مَا كُنْتِ تَقُوْلِيْنَ قَالَتْ كُنْتُ پوچھا: آپ کیا کہا کرتی تھیں ؟ کہتی تھی: میں أَقُوْلُ لَهُ إِنْ كَانَ ذَالِكَ إِلَيَّ فَإِنِّي لَا آپ سے یہ کہتی: اگر میں نے ہی اس کا فیصلہ کرنا أُرِيدُ يَا رَسُوْلَ اللهِ أَنْ أُوْثِرَ عَلَيْكَ ہے تو پھر یا رسول اللہ ! میں نہیں چاہتی کہ میں کسی أَحَدًا تَابَعَهُ عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ سَمِعَ دوسری کو آپؐ کے لئے مقدم کروں۔ (عبد اللہ عَاصِمًا۔ بن مبارک کی طرح) یہ بات عباد بن عباد نے بھی بیان کی۔ انہوں نے عاصم سے سنی۔ تشريح : تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُوِى إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ ۔۔۔۔ یعنی اپنی بیویوں میں سے جس کو چاہے تو مہلت دے اور جس کو چاہے اپنے پاس رکھے اور جنہیں چاہے تو الگ کر دے، اس بات کی وجہ سے تجھ پر کوئی گناہ نہیں۔ عنوان باب میں حضرت ابن عباس کا جو حوالہ دیا گیا ہے وہ ابن ابی حاتم نے موصولاً نقل کیا ہے۔ ہے۔ اس اس حوالے سے آیت کے غلط مفہوم مہوم کا کا ازالہ ازالہ کہ کرنا مقصود ہے۔ بعض نے یہ سمجھا ہے که کہ گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار دیا گیا ہے کہ جن عورتوں سے آپ چاہیں نکاح کریں۔ آپؐ پر اس بارہ میں کوئی پابندی نہیں۔ یہ مفہوم نص صریح کے قطعاً خلاف ہے۔ حضرت ابن عباس نے ترجی کے معنی تُوخِرُ بتائے ہیں اور اس کی تائید میں سورة الأعراف کی آیت کا حوالہ دیا گیا ہے جو یہ ہے: قَالُوا ارْجِهُ وَ أَخَاهُ وَ ارْسِلُ فِي الْمَدَائِنِ حرين (الأعراف: (۱۱۲) انہوں نے کہا: موسیٰ اور اس کے بھائی کو مہلت دے اور تمام شہروں میں ڈھنڈورچی بھیج دے ( جو جادو گروں کو اکٹھا کریں) ان معنوں کی رو سے معنونہ آیت کا سیدھا سادھا مفہوم یہ ہے کہ جس طرح آپ کی بیویوں کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ دو باتوں میں سے ایک بات اپنے لئے پسند کر لیں ، آپ کی جس کے لئے کڑی شرط تقوی اللہ اور تزکیہ نفس ہے یا دنیا کی عیش و عشرت و زیب و زینت۔ اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اختیار دیا گیا ہے کہ اپنی بیویوں میں سے جس بیوی کو اس شرط پر صحیح اترتی نہ پائیں اسے الگ کر دیں اور جسے چاہیں اپنی رفیقہ حیات بنائیں۔ تفسیر صغیر کے حاشیہ میں امر واقعہ کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ بالفعل آپ نے اپنی کسی بیوی کو الگ نہیں کیا جس سے پایا جاتا ہے کہ آپ کی نیک بیویوں نے اپنے تقویٰ اور اطاعت شعاری کا ثبوت بہم پہنچا دیا تھا جو آپ کی اعلیٰ تربیت کا نتیجہ تھا۔ خود یہی تیز مزاج حضرت زینب بنت جحش آپ کی تربیت میں اعلیٰ درجے کی تقویٰ شعار ، احکام الہی کی بجا آوری میں قابل رشک، صدقات و خیرات میں فراخ دل، صلہ رحمی کا خاص