صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 194
صحيح البخاری جلد ۱۹۴ ۶۵ - كتاب التفسير الأحزاب ایسی بہو سے رشتے کی حرمت باطل ٹھہرائی گئی تو آپ نے زو جنگھا کے ارشاد کے مطابق اللہ تعالیٰ کی مشیت کو مقدم رکھنا اور اس کی تعمیل کرنا ضروری سمجھا اور بغیر ادنی ترؤد اور خوف طعن و تشنیع اس کی تعمیل کی۔اسی طرح آپ نے منصب رسالت کا فرض ادا کیا۔غرض اصلاح حال کے بارے میں یہی الہی تقدیر تھی۔جو بات ناحق ہو ، اس میں کاری ضرب لگائی جائے اور ازدواجی تعلقات میں جو معیار حسب و نسب اور نشیب و فراز کا قائم تھا اسے منسوخ کر کے اس کی جگہ معیار تقوی اللہ کو مقدم رکھا گیا جس سے رفتہ رفتہ اسلامی معاشرے میں اونچ نیچ کی تمیز مٹا کر اسے ایک سطح پر استوار کیا گیا اور اس کا آغاز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اور آپ کے مبارک ہاتھوں سے ہوا۔جس کے شیریں ثمرات بعد میں ظاہر ہوئے۔عَلَيْهِ صَلَوتُ اللهِ وَبَرَكَاتُه مذکورہ بالا واقعہ سے امت کو یہ سبق دیا گیا ہے کہ خاندانی تعلقات کی صحت و استواری معاشرہ کی صحت و سلامتی اور اس کی ترقی کے لئے بہت بڑی اہمیت رکھتی ہے۔اس میں رخنہ پیدا کرنے والے اسباب کا فوری ازالہ ضروری ہے۔عموماً لوگ اس بارے میں اسی طرح تساہل سے کام لیتے ہیں جس طرح افراد خاندان کی صحیح تربیت سے غفلت برتتے ہیں اور اس غفلت و تساہل سے در حقیقت اپنے نفسوں اور اپنی قوم سے خیانت کرتے ہیں۔خلاصہ یہ کہ اسلامی معاشرہ کا تیسرا امتیاز جو قدرے تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔در حقیقت باب کا بھی تعلق اس امتیاز سے ہے جسے واضح کرنے کے لئے یہ سارے باب قائم کر کے متعلقہ روایات کو بار بار دہرایا ہے تا اصل مقصد ذہن نشین ہو۔اس تعلق میں مزید ہدایات سورۃ الاحزاب کی باقی آیات اور تفسیر سورۃ النور اور کتاب النکاح میں اپنے موقع و محل پر بیان ہوں گی۔بَابِ ٧ : تُرْجِيَ مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُونَ إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ ۖ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكَ (الأحزاب: ٥٢) (اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: ) ان (بیویوں) میں سے جسے تو چاہے مہلت دے اور جسے چاہے اپنے پاس رکھے اور ان میں سے جنہیں چاہے تو الگ کر دے تجھ پر کوئی مضائقہ نہیں قَالَ ابْنُ عَبَّاسِ تُرحى (الأحزاب: ٥٢) حضرت ابن عباس نے فرمایا: توجی کے معنی ہیں تُؤَخِّرُ۔اَرْجِة (الأعراف: ۱۱۲) أَخِرُهُ جس کا فیصلہ تو پیچھے ڈال دے (اور سورۃ الاعراف میں جو ارجِه وَ آخَاہ ہے تو وہاں بھی ) آرجہ کے معنی ہیں ڈھیل دے۔