صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 193
صحيح البخاری جلد ١٩٣ ۶۵ کتاب التفسير الأحزاب نکاح کرنے کا ارادہ رکھتے تھے اور یہ ارادہ آپ نے اپنے نفس میں پوشیدہ رکھا ہوا تھا۔کیونکہ سابقہ دستور کے مطابق اور کسی نئے حکم کے نازل نہ ہونے کی صورت میں آپ کا اس طرف خیال جا ہی نہیں سکتا تھا۔بلکہ مندرجہ ذیل اندیشے تھے جن سے آپ پریشان تھے اور ضبط سے کام لے رہے تھے۔ا۔اپنے خاندان میں فتنہ و فساد پیدا ہونے کا اندیشہ۔۲۔یہ اندیشہ کہ اس رشتہ کے تجویز کرنے میں دور اندیشی سے کام نہیں لیا گیا۔۳۔ایک نبی کے ذریعہ سے کیا ہوا رشتہ ناکام ہونے کا اندیشہ۔۴۔اپنی پھوپھی زادی کے مطلقہ ہونے کی صورت میں اس کے مال و مستقبل اور اس کے ابتلاء کی نسبت اندیشہ و فکر۔۵۔شریف زادی آزاد خاتون کا نکاح خلاف دستور غلام زادے سے کیا گیا جس سے خاطر خواہ نتائج بر آمد نہ ہونے کا اندیشہ۔یہ وہ اندیشے تھے جن سے آپ بے چین تھے۔اللہ تعالیٰ ان اندیشوں کے دور کرنے کا وعدہ اس آیت میں فرماتا ہے۔مذکورہ بالا اندیشوں کا طبعی علاج ان کے اظہار و ازالہ ہی میں تھا جس کا ذکر یہاں کیا گیا ہے وَ تَخْشَی النَّاس میں بھی انہیں اندیشوں کا ذکر ہے۔مذکورہ بالا ناگوار صورت حال میں آپ کی یہی کوشش تھی کہ طلاق واقع نہ ہو بلکہ دونوں میاں بیوی کا گھر آباد و شاداب رہے۔آپ کی اس کوشش کا ذکر آیت أَمْسِكُ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَ اتَّقِ اللہ میں کیا گیا ہے۔اس سیاق کلام سے ظاہر ہے کہ اپنے متبنی کی بیوی سے اپنا نکاح ہو یہ خیال دور از واقعات ہے۔عربی اسلوب بیان کے مطابق الفاظ میں غایت درجہ اختصار ہے اور اس ایجاز بلیغ میں مذکورہ بالا واقعات سموئے ہوئے ہیں۔چنانچہ فرماتا ہے: وَ تَخْشَى النَّاس کہ مجھے لوگوں کے طعن و تشنیع کا اندیشہ اور اس بات کا تجھے فکر ہے کہ خاندان میں بگاڑ پیدا ہو جائے گا۔وَاللهُ اَحَقُّ أَنْ تَخْشُهُ اس آیت سے نیز آیت الَّذِينَ يُبَلِّغُونَ بِسُلْتِ اللَّهِ وَ يَخْشُونَهُ وَلَا يَخْشَوْنَ اَحَدًا إِلَّا اللہ سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ آپ در پردہ نہیں چاہتے تھے کہ حضرت زید بن حارثہ کی مطلقہ سے آپ کا نکاح ہو اور آپ کو حکما اس پر آمادہ کیا گیا۔اس الہی فیصلے پر عمل کرنے کے لئے آمادہ کیا گیا، جس کا فیصلہ جناب الہی میں قرار پاچکا تھا۔زو جنگھا سے یہ مراد نہیں کہ کوئی آسمان پر جبرائیل وغیرہ کے ذریعہ سے نکاح پڑھا گیا۔اس نکاح سے تقدیر الہی مراد ہے جو عند اللہ قرار پا چکی تھی۔آیت تُخْفِي فِي نَفْسِكَ کا غلط مفہوم سمجھنے سے سارا سیاق کلام ہی بگڑ جاتا ہے اور جو مفہوم ہم نے بیان کیا ہے وہ شروع سے لے کر آخر تک اپنے سیاق کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔جس آیت سے ہم نے استدلال کیا ہے کہ آپ در پردہ حضرت زینب سے شادی نہیں کرنا چاہتے تھے پوری یہ ہے : الَّذِينَ يُبَلِّغُونَ بِسُلْتِ اللهِ وَيَخْشَوْنَهُ وَلَا يَخْشَوْنَ أَحَدًا إِلَّا اللَّهَ وَكَفَى بِاللَّهِ حَسِيبًا (الأحزاب: (۴۰) جو لوگ اللہ کے پیغام پہنچاتے ہیں اور اس کا پاس رکھتے ہیں اور سوائے اللہ کے کسی سے اندیشہ نہیں کرتے اور اللہ ہی بطور محاسب کافی ہے۔جب یہ تاکیدی حکم نازل ہوا اور متبنیٰ کا رشتہ غیر حقیقی قرار دیا گیا اور