صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 192
صحیح البخاری جلد ۱۹۲ ۶۵ - كتاب التفسير / الأحزاب آپ کے سپرد کر دیا تھا اس میں ایک غلام حضرت زید بن حارثہؓ بھی تھے۔آپ نے حضرت زید کو آزاد کر دیا اور مال مسکینوں و محتاجوں میں تقسیم کر دیا ( دیکھئے کتاب المغازی باب (۴۲) آپ کو حضرت زید بن حارثہ سے اس قدر محبت تھی کہ آپ نے سابقہ دستور کے مطابق انہیں اپنا متبنی بنالیا یعنی منہ بولا بیٹا۔یہ ان کے لئے بڑی عزت تھی اور ان کی یہاں تک عزت افزائی فرمائی کہ ان کا نکاح بھی اپنے خاندان میں حضرت زینب بنت جحش سے کروا دیا۔جن کی والدہ امیمہ عالی نسب عبد المطلب کی بیٹی تھیں یعنی آپ کی پھوپھی کی بیٹی۔خاندان کے افراد آپ کی تجویز سے متفق نہ تھے اور خود حضرت زینب بھی معترض تھیں لیکن آپ کا اپنے خاندان میں اس قدر و قار تھا کہ آخر وہ راضی ہو گئے لیکن ان دونوں کے ازدواجی تعلقات استوار نہ رہے۔حضرت زینب اپنے مزاج میں تیز تھیں اور انہیں اپنی خاندانی عزت کا بہت بڑا احساس تھا۔اس صورت حال سے گھر کا سکون اٹھ گیا جو گھریلو زندگی کے لئے ضروری شے ہے۔حضرت زید بن حارثہ نے روز مرہ کی تلخ کلامی سے نجات اسی میں سمجھی کہ اپنی بیوی سے الگ ہو جائیں۔اس سے جو صدمہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خاندان کے دیگر افراد کو ہو سکتا تھا اس کا اندازہ کرنا مشکل نہیں غیروں کا ہنسی مذاق اور نیش زنی مزید بر آں۔علاوہ ازیں متبنی کی بیوی چونکہ بہو سمجھی جاتی تھی۔عربوں میں ایسی بہو سے نکاح حرام سمجھا جاتا تھا۔طلاق واقع ہونے کی صورت میں اس کا خیال تک نہیں ہو سکتا تھا۔چونکہ منہ بولا رشتہ حقیقی نہیں بلکہ غیر طبعی ہے اور اس بارے میں زمانہ جاہلیت کے رسم و رواج گو اصلاح طلب تھے لیکن حضرت زید بن حارثہ اور حضرت زینب بنت جحش کے ازدواجی تعلقات میں رخنہ پیدا ہونے کی وجہ سے ایک بہت ہی ناخوشگوار صورت پیدا ہو چکی تھی جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بے خبر اور بے فکر نہیں رہ سکتے تھے۔اپنوں اور غیروں دونوں کی ٹھو کر اور چہ میگوئیوں سے متعلق اندیشہ تھا جو آپ کے دل کو گداز کر رہا تھا۔باب کی معنونہ آیت کا یہ واقعاتی پس منظر ہے۔پوری آیت مع ترجمہ یہ ہے: وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَ انْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكَ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ وَ تَخْشَى النَّاسَ وَاللهُ اَحَقٌّ اَنْ تَخْشَهُ فَلَمَّا قَضَى زَيْدٌ مِنْهَا وَطَرًا زَوْجُنَكَهَا لِكَيْ لَا يَكُونَ عَلَى ج 1 الْمُؤْمِنِينَ حَرَجٌ فِي أَزْوَاجِ أَدْعِيَا بِهِمْ إِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا وَكَانَ اَمْرُ اللهِ مَفْعُولًا (الأحزاب: ۳۸) اور جب تو اس شخص سے کہتا تھا جسے اللہ نے اپنی نعمت سے نوازا اور تو نے بھی اسے نوازا، اپنی بیوی اپنے پاس رکھ اور اللہ کا تقویٰ اختیار کر اور اپنے دل میں وہ (اندیشے) چھپائے ہوئے تھا جنہیں اللہ ظاہر کرنے والا تھا اور تجھے لوگوں کا بھی اندیشہ تھا بحالیکہ اللہ زیادہ حقدار ہے کہ تو اس کا پاس رکھے۔سو جب زید نے اپنی بیوی کے بارے میں اپنی خواہش پوری کرلی (یعنی طلاق دے دی ) ہم نے اس کا تجھ سے بیاہ کر دیا تاکہ مومنوں پر اپنے اپنے لے پالکوں کی بیویوں سے نکاح کرنے کے بارے میں کوئی روک نہ رہے، جب وہ انہیں طلاق دے دیں۔اور اللہ کے فیصلے نے بہر حال پورا ہونا تھا۔آیت وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللهُ مُبْدِیہ سے یہ غلط مفہوم سمجھا گیا ہے کہ آپ حضرت زینب بنت جحش سے