صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 191 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 191

صحيح البخاری جلد ۶۵ - كتاب التفسير الأحزاب بَاب ٦ : وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللهُ مُبْدِيَهِ وَ تَخْشَى النَّاسَ * وَاللهُ اَحَقُّ أَنْ تَخْشُهُ (الأحزاب: ۳۸) ( اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) اور تو اپنے دل میں وہ (اندیشے) چھپائے ہوئے تھا جنہیں اللہ ظاہر کرنے والا تھا اور تجھے لوگوں کا بھی اندیشہ تھا بحالیکہ اللہ زیادہ حقدار ہے کہ تو اس کا پاس رکھے ٤٧٨٧: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ۴۷۸۷: محمد بن عبد الرحیم نے ہم سے بیان کیا عَبْدِ الرَّحِيمِ حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ که معلى بن منصور نے ہمیں بتایا۔حماد بن زید عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ سے روایت ہے کہ ثابت نے ہم سے بیان کیا، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ (کہا) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا روایت ہے کہ آیت وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ اللهُ مُبْدِيهِ (الأحزاب: (۳۸) نَزَلَتْ مُبْدِيهِ یعنی اور تو اپنے نفس میں وہ بات چھپاتا فِي شَأْنِ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ وَ زَيْدِ ہے جو اللہ ظاہر کرنے والا ہے ، حضرت زینب د بحش اور حضرت زید بن حارثہ کے متعلق بْنِ حَارِثَةَ۔طرفه : بنت نازل ہوئی۔شريح : وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِیہ : اس باب کا تعلق بھی خاندانی اصلاح ہے ہے۔یہ آیت ایجاز بلیغ پر مشتمل ہے تاوقتیکہ واقعاتی پس منظر نہ بتایا جائے اس کا مفہوم واضح نہ ہو گا۔عرب کیا بلکہ تمام اقوام عالم میں شریف زادوں کا شریف زادیوں سے نکاح کیا جاتا تھا اور اب تک یہی دستور ہے۔لیکن شرافت کا معیار بالعموم حسب و نسب اور دولت و جاہ ہوتا ہے اور اسی ایک معیار سے ادنیٰ و اعلیٰ میں فرق کیا جاتا ہے۔عربوں کے ہاں غلام ولونڈی ادنیٰ طبقہ معاشرہ سمجھا جاتا تھا اور ان کے نزدیک غلام، لونڈی کا نکاح آزاد انسانوں سے جو احرار کہلاتے تھے قطعاً حرام سمجھا جاتا تھا۔اسلام نے شرافت کا یہ معیار سرے سے نظر انداز کر دیا اور اس کی جگہ تقوی اللہ ، حسن عقیدہ اور صحت کردار کو اصل معیار قرار دیا۔یہ معیار کسی طبقہ بشریہ میں پایا جائے وہ اسلام کے نزدیک شریف کہلانے کا مستحق ہے اور معاشرہ اسلامیہ میں اس سے ازدواجی تعلق قائم کرنے میں قطعاً کوئی روک نہیں۔کتاب المغازی میں بتایا جا چکا ہے کہ حضرت خدیجہ نے آنحضرت صلی علیم سے اپنے نکاح پر اپنا سارا مال و منال