صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 190 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 190

صحيح البخاری جلد 19۔۶۵ - كتاب التفسير الأحزاب الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ۔روایت کیا ہے۔انہوں نے معمر سے، معمر نے وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَأَبُو سُفْيَانَ زہری سے یہ بات روایت کی۔انہوں نے کہا الْمَعْمَرِيُّ عَنْ مَّعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ ابوسلمہ نے مجھے بتایا۔اور عبد الرزاق اور ابوسفیان معمری نے معمر سے، معمر نے زہری عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ۔طرفه: ٤٧٨٥ - سے، زہری نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ سے نقل کیا۔یہ تشريح : وَإِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ۔۔۔۔به باب معاشرة اسلاميه کے سابقہ امتیاز سے ہی متعلق ہے۔پوری آیت یہ ہے: أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِن كُنتُنَ تُرِدْنَ الْحَيوةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ امَتِعَدُنَ وَ أَسَرْحُكنَ سَرَاحًا جَمِيلًا (الأحزاب: ۲۹) اے نبی ! اپنی بیویوں سے کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زیبائش چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں سامان دے دیتا ہوں اور تمہیں اچھے طریق سے رخصت کر دیتا ہوں۔سورۃ الاحزاب کی محولہ بالا آیات کے سارے سیاق و سباق میں یہی ایک مرکزی نقطہ ہے یعنی صحت عقیدہ و عمل اور پاکیزہ اخلاق۔فرماتا ہے: لنساء النَّبِي لَسْتُنَ كَأَحَدٍ مِنَ النِّسَاءِ إِنِ اتَّقَيْنَ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوفًا (الأحزاب: ۳۳) اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو بشر طیکہ تم تقوی اللہ اختیار کرو۔سو تم طریق گفتگو میں ایسا لب ولہجہ نہ اختیار کرو کہ جس کے دل میں بیماری ہے وہ تمہاری نسبت کسی بد خیال کی خواہش کرے اور ایسی بات کہا کرو جو عرف عام میں بھلی ہو۔اس ارشاد باری تعالیٰ سے ظاہر ہے کہ آپ کی بیویوں کی سیرت و کردار کا ایک بے مثل اعلیٰ نمونہ قائم کرنا مقصود تھا۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس میں کامیاب ہوئے کیونکہ آپ نے عزم و قوی ارادے سے اور سنجیدگی و حکیمانہ طریق سے اپنی ہر بیوی کے ذہن نشین کر دیا تھا کہ وہ اس مثالی کردار کے بغیر آپ کی رفیقہ حیات نہیں بن سکتی۔اور ازواج مطہرات نے وہ قابل تقلید نمونہ دکھایا جو امہات المؤمنین کے شایان شان تھا۔آج اسلامی معاشرہ کی ناکامی کی بڑی وجہ یہی ہے کہ افراد معاشرہ اس اہم ضرورت کی طرف کبھی سنجیدگی کے ساتھ متوجہ نہیں ہوتے نہ عزم و استقلال سے کام لیتے ہیں۔بحالیکہ خاندان کی اصلاح اور اس کا تزکیہ معاشرہ کے لئے ایسا ضروری امر ہے کہ اس کی صحت و صلاحیت پر ساری قوم کی صحت وصلاحیت کا انحصار ہے۔امام بخاری نے یہ دو ابو اب اسلامی معاشرے کے تیسرے اہم امتیاز کو نمایاں کرنے کی غرض سے قائم کئے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک نمونے سے اسی ضرورت حقہ کی طرف توجہ دلائی ہے۔