صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 189
صحیح البخاری جلد ۱۸۹ ۶۵ - كتاب التفسير الأحزاب عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ عائشه نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ کہتی تھیں وَسَلَّمَ قَالَتْ لَمَّا أُمِرَ رَسُوْلُ اللهِ کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حکم ہوا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَخْيِيْرِ أَزْوَاجِهِ کہ آپ اپنی ازواج کو اختیار دیں تو آپ نے مجھے بَدَأَ بِي فَقَالَ إِنِّي ذَاكِرٌ لَكِ أَمْرًا فَلا سے ہی شروع کیا اور فرمایا: میں تم سے ایک بات عَلَيْكِ أَنْ لَّا تَعْجَلِي حَتَّى تَسْتَأْمِرِي ذکر کرنے لگا ہوں جب تک اپنے ماں باپ سے أَبَوَيْكِ۔قَالَتْ وَقَدْ عَلِمَ أَنَّ أَبَوَيُّ لَمْ مشورہ نہ کر لو اس میں جلدی نہ کرنا۔کوئی مضائقہ يَكُوْنَا يَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ۔قَالَتْ ثُمَّ قَالَ نہیں (جو چاہو فیصلہ کرو۔) کہتی تھیں: آپ کو یہ إِنَّ اللَّهَ جَلَّ ثَنَاؤُهُ قَالَ يَايُّهَا النَّبِيُّ علم تھا کہ میرے ماں باپ ایسے نہیں کہ آپ سے قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِن كُنتُنَ تُرِدنَ الْحَلوة جدا ہونے کا مجھے مشورہ دیں۔کہتی تھیں: یہ کہہ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا إِلَى اَجْرًا عَظِيمًا کر آپ نے فرمایا: اللہ جل ثناءہ فرماتا ہے: يَايُّهَا (الأحزاب: ۲۹ (۳۰) قَالَتْ فَقُلْتُ النَّبِيُّ قُلْ لِاَزْوَاجِكَ إِن كُنْتُنَ تُرِدْنَ الْحَيوة فَفِي أَي هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيْ فَإِنِّي الدُّنْيَا وَ زِينَتَهَا۔۔۔أَجْرًا عَظِيمًا - کہتی۔۔۔أُرِيدُ اللهَ وَرَسُوْلَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ تھیں: میں نے کہا: اس میں کونسی بات ہے کہ قَالَتْ ثُمَّ فَعَلَ أَزْوَاجُ رَسُوْلِ اللهِ جس کے متعلق میں ماں باپ سے مشورہ کروں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ مَا ہیں تو اللہ، اس کا رسول اور دار آخرت ہی چاہتی ہوں۔ہوں۔کہتی تھیں: پھر رسول اللہ صلی اللہ فَعَلْتُ۔علیہ وسلم کی دوسری ازواج نے بھی وہی جواب دیا جو میں نے دیا تھا۔تَابَعَهُ مُوْسَى بْنُ أَعْيَنَ عَنْ مَّعْمَرٍ عَنِ لیث کی طرح) موسیٰ بن امین نے بھی اسے ل ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع: "اے نبی ! اپنی بیویوں سے کہہ دے کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں مالی فائدہ پہنچاؤں اور عمدگی کے ساتھ تمہیں رخصت کروں۔اور اگر تم اللہ کو چاہتی ہو اور اس کے رسول کو اور آخرت کے گھر کو تو یقینا اللہ نے تم میں سے حسنِ عمل کرنے والیوں کے لیے بہت بڑا آجر تیار کیا ہے۔“