صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 187
صحيح البخاری جلد ۱۸۷ ۶۵ کتاب التفسير الأحزاب تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ وَقَدْ عَلِمَ أَنَّ أَبَوَيْ مشورہ نہ کر لو اس میں جلدی نہ کرنا۔تم پر کوئی لَمْ يَكُوْنَا يَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ۔قَالَتْ مضائقہ نہیں ( آزادی سے جو چاہو فیصلہ کرو) اور ثُمَّ قَالَ إِنَّ اللهَ قَالَ يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ آپ کو علم تھا کہ میرے ماں باپ ایسے نہیں ہیں قُلْ لِاَزْوَاجِكَ (الأحزاب: ۳۰،۲۹) إِلَی کہ وہ آپ سے علیحدہ ہونے کا مجھے مشورہ دیں۔تَمَامِ الْآيَتَيْنِ۔فَقُلْتُ لَهُ فَفِي أَي کہتی تھیں کہ آپ نے کہا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ فَإِنِّي أُرِيدُ اللهَ يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِازْوَاجِكَ۔۔پوری دو آیتیں۔میں نے آپ سے پوچھا: میں اپنے ماں باپ سے اس کے متعلق کیا مشورہ لوں، میں تو اللہ اور اس کا رسول اور دار آخرت ہی چاہتی ہوں۔وَرَسُوْلَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ۔طرفه: ٤٧٨٦ - ريح : قُلْ یح : ازْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَ تُرِدْنَ الْحَيَوةَ الدُّنْيا۔۔۔۔اس عنوان کے تحت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کا پاک نمونہ پیش کیا گیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق اپنی ازواج کو اختیار دیا کہ دنیا کا عیش و عشرت اور اس کی زیب وزینت تمہاری خواہش ہو تو تمہارا میرے ساتھ ازدواجی تعلق قائم نہیں رہ سکتا لیکن تمام ازواج نے فرداً فردا یہی جواب دیا کہ انہیں ایسی کوئی خواہش نہیں اور وہ اللہ اور اس کے رسول کو بہر حال مقدم رکھنا چاہتی ہیں۔معاشرہ بشریہ کا وجود مرد و عورت سے ترکیب پاتا ہے۔اس بارہ میں اسلام کی بنیادی ہدایت یہ ہے کہ اس کے دونوں رکن اپنے تزکیہ نفس میں اعلیٰ مقام پر ہوں۔بھلا کونسا د نیوی نظام حکومت ہے جس کے مد نظر خالص یہ امر ہو اور یہ وہ امتیاز ہے جس میں اسلامی نظام معاشرہ یکتا ہے۔التَّبَرُّجُ أَنْ تُخْرِجَ مَحَاسِنَهَا : معنونہ آیت کے علاوہ لفظ تبرُّج کی شرح سے آیت وَ قَرْنَ فِي بیوتکن کی طرف توجہ دلائی گئی ہے، پوری آیت ہے : وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُن وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى وَ اقمنَ الصَّلوةَ وَاتِينَ الزَّكَوةَ وَاَطِعْنَ اللهَ وَرَسُولَهُ إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ ل ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع: ”اے نبی ! اپنی بیویوں سے کہہ دے کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں مالی فائدہ پہنچاؤں اور عمدگی کے ساتھ تمہیں رخصت کروں۔اور اگر تم اللہ کو چاہتی ہو اور اس کے رسول کو اور آخرت کے گھر کو تو یقینا اللہ نے تم میں سے حسنِ عمل کرنے والیوں کے لیے بہت بڑا اجبر تیار کیا ہے۔“