صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 185
صحیح البخاری جلد !! ۱۸۵ ۶۵ - کتاب التفسير الأحزاب ثَابِتٍ قَالَ لَمَّا نَسَخْنَا الصُّحُفَ فِي حضرت زید بن ثابت نے کہا: جب ہم نے قرآن الْمَصَاحِفِ فَقَدْتُ آيَةً مِنْ سُوْرَةِ کریم کو کتابوں کی شکل میں لکھنا شروع کیا تو الْأَحْزَابِ كُنْتُ كَثِيرًا أَسْمَعُ رَسُوْلَ سورة الاحزاب کی ایک آیت مجھے نہ ملی جو میں اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا لَمْ رسول اللہ صلی علی ظم کو پڑھتے اکثر سنا کرتا تھا۔ مجھے أَجِدْهَا عِنْدَ أَحَدٍ إِلَّا مَعَ خُزَيْمَةَ یہ آیت کسی کے پاس نہ ملی سوائے خزیمہ انصاری الْأَنْصَارِيِّ الَّذِي جَعَلَ رَسُولُ اللهِ کے۔ وہی جن کی شہادت رسول اللہ صلی ا ہم نے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهَادَتَهُ شَهَادَةَ دو شخصوں کی شہادت کے برابر قرار دی ہے رَجُلَيْنِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا اور وہ آیت یہ ہے:) مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ عَاهَدُوا اللهَ عَلَيْهِ ( الأحزاب : ٢٤) صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللهَ عَلَيْهِ یعنی مومنوں میں سے ایسے مرد بھی ہیں جنہوں نے جس بات پر اللہ سے عہد کیا تھا اسے سچا کر دیا ہے۔ أطرافه : ۲۸۰۷ ، ٤٠٤۹ ، ٤٦٧٩ ، ٤٩٨٦ ، ٤٩٨٨ ، ٤٩٨٩، ٧١٩١، ٧٤٢٥۔ تشريح : فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ : اسلامی معاشرہ کو ممتاز کرنے والا تیسرا امتیاز اس کے افراد کی راہنمائی اور اخلاقی حالت کی صحت سے متعلق ہے اور اس کی بنیاد معاہدہ بیعت اور اطاعت شعاری پر رکھی گئی ہے۔ فرماتا ہے : مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا ( الأحزاب : ۲۴) مومنوں میں سے بعض ایسے مرد ہیں جنہوں نے اس عہد کو جو انہوں نے اللہ سے قائم کیا سچا کر دکھا یا سو ان میں سے وہ ہیں جنہوں نے اپنی نیت پوری کر دی اور اپنی جان تک دے دی اور ان میں سے وہ بھی ہیں جو انتظار کر رہے ہیں (کہ کب انہیں اپنا عہد پورا کرنے کا موقع ملتا ہے) اور انہوں نے اپنے عہد میں قطعا کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی۔ اس آیت سے والا ضح ہے کہ معاہدہ بیعت اور اس کے ایفاء میں ان کا تعلق براہ راست اللہ تعالیٰ سے ہے۔ معاشرہ اسلامیہ کا یہ وہ امتیاز ہے جو دنیاوی حکومتوں اور ان کے زیر اثر قائم شدہ معاشروں میں سرے سے ہی مفقود ہے۔ والیان حکومت کے مد نظر نہ خالق ہے اور نہ بندگان خالق کا اس سے کسی رابطہ و رشتہ کی صحت واستواری۔ اور اس بات کا فقدان ہی دراصل حکومتوں کی اصلاح حال میں ناکامی کا سبب ہے۔ غالباً بے شمار تلخ تجربوں کے بعد انہیں اس تلخ حقیقت کا اعتراف ہو گا۔ ملک و وطن اور معاشرہ کی حفاظت و سلامتی کے لئے تنخواہ دار سپاہ اور سپاہ سالاروں نے وہ کام نہیں کیا جو بے تنخواہ مجاہدین نے محض اپنے ایمان و عقیدہ اور عہد بیعت میں وفاداری اور اطاعت شعاری کے جذبے سے سرشار