صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 183
صحيح البخاری جلد ! ١٨٣ ۶۵ - كتاب التفسير الأحزاب نے تمہارے (فائدے کے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے اور تم پر اپنے احسان کو پورا کر دیا ہے۔اور تمہارے لیے دین کے طور پر اسلام کو پسند کیا ہے۔۲۔دوسرا بنیادی امتیاز یہ ہے کہ سربراہ حکومت خواہ وہ نبی ہو یا اس کا جانشین وصف أولى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ انفسھم سے موصوف ہے کہ وہ معاشرہ کے افراد کا ان کی اپنی جانوں سے بڑھ کر محبت، شفیق، ہمدرد اور ان کی ضرورتوں کی نگہداشت رکھنے والا سر پرست ہے۔چنانچہ باب نمبرا کے عنوان میں آیت النَّبِيُّ أَولَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِم كا حوالہ دے کر روایت نمبر ۴۷۸۱ میں اس ارشاد باری تعالیٰ کی وضاحت کی گئی ہے اور اس تعلق میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ پیش کیا گیا ہے۔اسلامی نظام معاشرہ سے تعلق رکھنے والا یہ امتیاز کتنا بڑا ہے جو معاشرہ اسلامیہ کی صحت و سلامتی کا متکفل ہے اور اس بارے میں اس کا سر پرست اعلیٰ ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔خزانہ بیت المال میں اس سر پرست اعلیٰ یا اس کے جانشین کا حق اتنا ہی ہے جتنا کہ کسی دوسرے فرد کا بلکہ افراد کا حق مقدم رکھا گیا ہے۔اگر دنیا کے کسی نظام میں یہ بات پائی جاتی ہو تو ہمیں یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ اس نظام کی بنیاد اسلامی نظام پر قائم ہے خواہ اس نظام کی کوئی شکل بنائی جائے اور اگر اس میں سے یہ بنیادی اصل مفقود ہے تو وہ نظام بہر کیف اسلامی نظام سے یقیناً ادنی ہے۔بَاب ٢ : أَدْعُوهُمْ لا بَابِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللهِ (الأحزاب: (٦) (اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) تم ان کو ان کے باپوں کی طرف منسوب کر کے پکارو یہی بات اللہ کے نزدیک درست ہے ٤٧٨٢ : حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ :۴۷۸۲ معلی بن اسد نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ عبد العزيز بن مختار نے ہمیں بتایا۔موسیٰ بن عقبہ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ قَالَ حَدَّثَنِي نے ہم سے بیان کیا، کہا: سالم نے مجھے بتایا۔سَالِمٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ مَوْلَى ہے کہ حضرت زید بن حارثہ جو رسول اللہ صلی اللہ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا علیہ وسلم کے غلام تھے، ہم انہیں زید بن محمد ہی كُنَّا نَدْعُوْهُ إِلَّا زَيْدَ بْنَ مُحَمَّدٍ حَتَّى کہہ کر پکارا کرتے تھے۔یہاں تک کہ قرآن کی نَزَلَ الْقُرْآنُ ادْعُوهُمْ لِأَبَابِهِمْ هُوَ یہ آیت نازل ہوئی اُدْعُوهُمْ لا بَابِهِم