صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 182
صحيح البخاری جلد ۶۵ - كتاب التفسير الأحزاب اگر ہم مختلف ممالک میں موجودہ نظاموں کا جائزہ لیں تو ہر ملک میں جمہوریت کا نیا نمونہ نظر آتا ہے۔مثلاً برطانیہ میں پارلیمنٹری (شورائی) جمہوریت ہے۔لیکن اس کے ساتھ اور اس سے بالا بادشاہ ہے جو موروثی ہے۔بحالیکہ یہ دونوں چیزیں متضاد ہیں۔جمہوریت اور موروثی بادشاہت ایک دوسرے کی نقیض ہیں۔امریکہ کا نظام بھی جمہوری ہے لیکن برطانوی جمہوریت سے مختلف۔اس کے ساتھ بادشاہت کا تصور نا جائز ، تاہم صدر کے وجود سے چارہ نہیں۔روس کا نظام اشتراکی ہے جو تمام دیگر نظاموں سے بہتر بتایا جاتا ہے لیکن باوجود اس کے روس اور دنیا کے اکثر ممالک میں نظام کا دارومدار ڈکٹیٹر شپ (استبدادیت) پر ہے۔ظاہر ہے کہ جمہوریت جسے بہت سراہا جاتا ہے اس کا کوئی ایسا نمونہ در حقیقت موجود نہیں جس پر اسلامی جمہوریت کا قیاس کیا جاسکے۔اسلامی جمہوریت اپنے ساتھ ایسے ممیزات رکھتی ہے جن کا وجود دنیا کی کسی جمہوریت میں نہیں اور یہ میزات ذیل میں بیان کئے جاتے ہیں جو نظام سورۃ الاحزاب کی آیات سے مستنبط ہیں اور قرون اولیٰ کی اسلامی حکومت کے نمونے سے تصدیق پاتے ہیں۔ا۔جمہوری اور شخصی طرز کی حکومت میں سب سے بڑا فرق رعایا یا عوام کی مداخلت یا عدم مداخلت کا حق ہے۔حکومت میں مداخلت کا جس قدر حق انہیں حاصل ہو گا اسی قدر جمہوریت کا عنصر اس میں زیادہ ہو گا۔اس کے بر عکس شخصی سلطنت میں سارا دارو مدار صرف ایک شخص کی مرضی پر ہوتا ہے۔اس اعتبار سے اسلامی طرز حکومت کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہو گا کہ اس میں دونوں باتیں نہیں، نہ اس میں ایک شخص کی خواہش پہ کسی نظام کا دارو مدار ہے اور نہ اس سے عوام الناس کلیۂ بے دخل کئے گئے ہیں۔بلکہ ان دونوں عصروں سے بالاتر مشیت اللہ اور شریعت الہیہ پر نظام اسلامی کی بنیاد رکھی گئی ہے۔فرماتا ہے : وَمَا كَانَ لِمُؤْمِن وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُةٌ أَمْرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَللًا مُّبِينًا (الأحزاب: ٣٧) کسی مومن مرد یا کسی مومن عورت کے لئے مناسب نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملہ میں کوئی فیصلہ کر دیں تو انہیں اپنے اس معاملہ کے متعلق کوئی اختیار ہو ( کہ وہ قبول کریں یا رڈ کریں یا بدلیں بلکہ اس کی اطاعت )۔لازمی ہے اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا تو وہ یقینا صحیح راہ سے بہت دور چلا جائے گا اور کھلا کھلا نقصان اٹھائے گا۔اس عدم تصرف اور اطاعت میں رسول اور اس کے ماسو اسب برابر ہیں۔کسی کو گلہ نہیں ہو سکتا کہ فلاں شخص تبدیلی کا حق رکھتا ہے اور فلاں نہیں۔اللہ تعالیٰ کے احکام کی بجا آوری سب پر لازمی ہے۔اسی تعلق میں دیکھئے بخاری، کتاب المغازی، باب ۳۹۔غرض اسلامی نظام حکومت کا یہ پہلا امتیازی اصل ہے جس کے ذریعے سے نفس بشریہ کو اس کے ہوا و ہوس کی اتباع سے روک دیا گیا ہے تاکہ نظام بازیچہ بحث و مباحثہ نہ بنارہے اور ایک واضح صراط مستقیم پر چلنے کے لئے نفوس مستعد رہیں اور یہ امتیاز در حقیقت لازمی نتیجہ ہے اسلام کے اس بنیادی امتیاز کا کہ وہ کامل ضابطہ زندگی ہے۔فرماتا ہے : الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا (المائدة : ۴) آج میں تا ہے: