صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 181 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 181

صحيح البخاری جلد IM ۲۵ - کتاب التفسير الأحزاب حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيّ عَنْ فليح بن سلیمان) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ بلال بن علی سے، ہلال نے عبد الرحمن بن ابی عمرہ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ سے روایت کی۔انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مُّؤْمِنٍ إِلَّا وَأَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِهِ فِي ے، آپ نے فرمایا: کوئی بھی ایسا مومن نہیں مگر الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ میں دنیا و آخرت میں اس کے ساتھ تمام لوگوں النَّبِيُّ أولى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ سے بڑھ کر تعلق رکھنے والا ہوں۔اگر تم چاہو تو یہ (الأحزاب: ٧) فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ تَرَكَ آیت پڑھ لو۔النَّبِی اَولی۔۔۔یعنی نبی مومنوں مَالًا فَلْيَرِتْهُ عَصَبَتُهُ مَنْ كَانُوا سے زیادہ قریب ہے بنسبت ان کی اپنی جانوں فَإِنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَلْيَأْتِنِي کے۔اور مومن جو جائیداد بھی چھوڑ جائے تو اس کے خاندان کے لوگ اس کے وارث ہوں گے جو بھی وہ ہوں؛ اور اگر وہ قرضہ یا کسمپرس بال وَأَنَا مَوْلَاهُ۔بچے چھوڑ جائے تو وہ میرے پاس آئیں میں ان کا سر پرست ہوں گا۔أطرافه ،۲۲۹۸ ، ،۲۳۹۸ ، ۲۳۹۹، ۵۳۷۱، ٦۷۳۱، ٦٧٤٥، ٦٧٦٣- يح : النَّبِيُّ أَولَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ : اس باب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے جانشین کا مقام بیان ہوا ہے۔یہ یادر ہے یہ مقام شریعت الہیہ نے متعین کیا ہے۔معاشرہ کے افراد نے اسے متعین نہیں کیا نہ ان کی طرف سے تفویض ہوا ہے کہ وہ اپنی قوم کے مرہون منت ہوں۔اسلامی معاشرہ کا نظام قائم رکھنے والی حکومت نہ صحیح معنوں میں جمہوریت ہے نہ استبدادی اور نہ اشتراکی۔یہ اصطلاحیں بیسویں صدی کی ایجاد ہیں۔اسلامی معاشرہ کا جائزہ موجودہ زمانہ کی اصطلاحوں کے ذریعہ سے لینا مناسب نہیں بلکہ امر واقعہ کی روشنی میں اسلامی معاشرہ سے متعلق بحث کرنا اور دیکھنا ضروری ہے کہ کہاں تک معاشرہ کی غرض و غایت پورا کرنے میں اسلامی حکومت کامیاب رہی ہے۔یہ حکومت سکہ بند شے نہیں کہ ہر جگہ اور ہر زمانے میں ایک جیسی صورت و شکل میں ہو۔اسلامی شریعت نے اصولی تعلیم دے کر ہماری رہنمائی فرمائی ہے، جسے مد نظر رکھنا ہمارے لئے فرض قرار دیا گیا ہے۔اسے نظر انداز کرنا ہمارے لئے کسی حالت میں جائز نہیں اور وہ ایسے اصول ہیں جن کی صحت کے بارے میں کوئی با عقل و باشعور انسان انکار نہیں کر سکتا۔