صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 180
صحيح البخاری جلد ۱ IA+ ۶۵ - كتاب التفسير الأحزاب غزوہ احزاب میں کفار کی شکست فاش نے کفار اور یہود کی ہمتیں توڑ دیں اور مسلمانوں کی جہت سے انہیں کلیۂ مایوس ہونا پڑا۔جس کی وجہ سے مدینہ میں ایک نیا دور یعنی دور امن شروع ہوا۔جس میں مسلمانوں کو شریعت اسلامی پر کار بند ہونے کی تلقین کی گئی۔اطاعت شریعت کے ضمن میں سب سے پہلی اور بنیادی ہدایت (اتَّقِ الله) تقوی اللہ اختیار کرنے کی ہے اور کفار و منافقین کی تقلید ( وَلَا تُطِعِ الْكَفِرِينَ وَالْمُنْفِقِينَ) سے منع کیا گیا ہے۔فرماتا ہے : وَاتَّبِعْ مَا يُوحَى إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ - ان احکام الہی کی جو تیرے رب کی طرف سے وحی کی جاتی ہے پیروی کر۔ان ابتدائی آیات میں مخاطب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو صاحب وحی ہونے کی حیثیت سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پہلے مخاطب و مسئول (جواب دہ) ہیں۔معاشرہ کی بنیاد خاندان پر ہے جو اس کے لئے بطور اینٹ کے ہے۔اگر اینٹ پختہ ہو گی تو جو عمارت پختہ اینٹوں سے بنے گی۔وہ مضبوط اور پائیدار ہو گی۔ورنہ کچی بھر بھری اینٹوں کی عمارت جلد منہدم ہو جائے گی۔اس لئے قیام امن کے بعد جو ہدایات سورۃ الاحزاب میں دی گئی ہیں ان کا تعلق اولاً افراد کے تزکیہ سے ہے اور ثانیا خاندانی اصلاح سے۔منہ بولی مائیں، باپ اور بیٹے بیٹیاں غیر طبعی خاندان ہیں۔افراد کے درمیان رشتہ کی بنیاد رحمی تعلقات پر ہے اور اس کے بعد ان تعلقات پر جن کا ذکر اسی سورۃ کی آیت نمبرے وغیرہ میں کیا گیا ہے۔اس کی تفصیل ابھی بیان کی جائے گی۔غیر طبعی خاندان سے متعلق زمانہ جاہلیت کی عادات ، رسم ورواج کی اصلاح کے بعد شیرازہ معاشرہ مضبوط رکھنے کے لئے آنحضرت صلی للی تم کو اولی بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ اَنْفُسِهِمُ (بی مومنوں سے زیادہ قریب ہے بنسبت ان کی اپنی جانوں کے) قرار دیا گیا ہے۔(الأحزاب:۷) ان الفاظ سے ظاہر ہے اسلامی اجزاء معاشرہ میں رشتہ اتحاد مستحکم رکھنے کے لئے آپ کا وجود با جو دسب سے مقدم ہے۔یہ اہم مضمون ہے سورۃ الاحزاب کا جس کا تجزیہ امام بخاری نے گیارہ ابواب اور اُنہیں روایتوں کے ذریعے سے کیا ہے۔ہر باب کا عنوان سورۃ الاحزاب کی کوئی نہ کوئی آیت ہے، جس کے تحت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ پیش کیا گیا ہے۔اس مجمل تبصرے کے بعد ان ابواب کی شرح اختصار سے کی جائے گی جن سے اس سورۃ کا موضوع متعین ہوتا ہے۔بَاب ۱ : { النَّبِيُّ أَولَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمُ (الأحزاب: ٧) نبی مومنوں سے زیادہ قریب ہے بنسبت ان کی اپنی جانوں کے ٤٧٨١: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ ۴۷۸۱ ابراہیم بن منذر نے مجھے بتایا کہ محمد بن الْمُنْذِرِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحِ فلیح نے ہم سے بیان کیا، (کہا: ) میرے باپ ! یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ حاشیہ صفحہ ۶۵۶) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔