صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 179 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 179

صحيح البخاری جلد 129 ۶۵ - كتاب التفسير الأحزاب ٣٣- سُوْرَةُ الْأَحْزَابِ وَقَالَ مُجَاهِدٌ صَيَاصِيْهِمْ (الأحزاب: ۲۷) اور مجاہد نے کہا: صَيَامِهِمْ کے معنی ہیں ان کے قُصُوْرِهِمْ مَعْرُوفًا (الأحزاب: ۷) في محل - مَعْرُوفًا فِي الْكِتَابِ عرف عام کے مطابق بھلا سلوک جس کا حکم کتاب میں دیا گیا ہے۔الْكِتَابِ۔تشريح۔صيامنهم سے یہ آیت مراد ہے: وَ انْزَلَ الَّذِينَ ظَاهِرُوهُمْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ مِنْ صَيَاصِيْهِمْ وَ قَذَفَ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ فَرِيقًا تَقْتُلُونَ وَتَأْسِرُونَ فَرِيقًا (الأحزاب: ۲۷) اور اس نے ان اہل کتاب کو جنہوں نے مشرکین کی پیٹھ ٹھونکی اور مدد کی تھی انہیں اپنے قلعوں سے اُتارا اور ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔حالت یہ تھی کہ ان میں سے ایک حصے کو قتل کرنے لگے اور ایک حصے کو قید۔شرح الفاظ میں صَبَاصِ کے معنی قصور یعنی محل بتائے گئے ہیں جو قصر کی جمع ہے اور یہ آطام مدینہ کے نام سے مشہور تھے۔یہ قلعہ نما بلند و بالا محل اونچی جگہوں پر تعمیر کئے گئے تھے۔مورچہ بندی کے لئے ان میں برج، رصد گاہوں اور لڑا کا دستوں کی رہائش درصد کا پورا پورا انتظام تھا۔یہ قلعے بوقت جنگ یہود کے لئے بطور پناہ گاہیں بھی استعمال ہوتے تھے۔سورۃ الاحزاب کی آیت ۲۶ میں کفار مکہ کے لاؤ لشکر خائب و خاسر لوٹائے جانے کا ذکر ہے۔اس آیت کے بعد اگلی آیت میں ان یہود کے ہتھیار ڈالنے کا ذکر کیا گیا ہے، جنہوں نے غزوہ احزاب میں کفار کی مدد کی تھی۔وہ اپنے مضبوط قلعوں کے دروازے کھولنے اور اپنے آپ کو صحابہ کے سپرد کرنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ان میں سے جنہوں نے لڑائی جاری رکھی وہ مارے گئے اور باقی قید کئے گئے تفصیل کے لئے دیکھئے بخاری، کتاب المغازی، باب ۳۰،۲۹ تفسیر صغیر میں سورۃ الاحزاب آیت نمبر ۲۳ کے حاشیہ میں بتایا گیا ہے کہ احزاب کے حملہ کی پہلے سے خبر تھی۔یعنی کفار عرب جتھوں کی صورت میں اکٹھے ہو کر حملہ آور ہوں گے اور شکست کھا کر راہ فرار اختیار کریں گے۔یہ ذکر بطور پیشگوئی سورۃ ص آیت ۱۲ ( جُنْدٌ مَا هُنَالِكَ مَهْزُوهُ مِنَ الْأَحْزَابِ ) اور سورہ قمر آیت ۴۶ ( سَيُهُمُ الْجَمْعُ وَ يُولُونَ الدُّبُر) میں ہے۔پہلی آیت میں بھی ہزیمت کا ذکر ہے اور دوسری میں بھی جس سے پایا جاتا ہے کہ وہ حملہ کرنے کے بعد ضرور شکست کھائیں گے اور پیٹھ پھیر جائیں گے۔دونوں سورتیں بالاتفاق ابتدائی مکی سورتوں میں سے ہیں۔غرض اس عظیم الشان پیشگوئی کے پورا ہونے کا ذکر سورۃ الاحزاب میں ہے جو مدنی سورۃ ہے جو ۴ھ میں نازل ہوئی۔غزوہ احزاب شوال ۴ھ میں ہوا تھا۔اس سورۃ میں علاوہ مذکورہ بالا پیشگوئی کے پورا ہونے کے بعض تمدنی امور کا ذکر ہے جیسا کہ ابھی بتایا جائے گا۔مثلاً حضرت زینب سے آپ کا نکاح جس کی تاریخ بعد کی ہے۔سورۃ احزاب کی جن آیات میں معاشرہ سے متعلق ہدایات بیان ہوئی ہیں ان کے پیش نظر غالب قیاس یہی ہے کہ ان آیات کا نزول ۴ھ تا ۷ ھ سے متجاوز نہیں اور وہ وحی الہی کی روشنی میں یکجا ترتیب دی گئی ہیں۔