صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 178
صحيح البخاری جلد ! توو IZA ۶۵ کتاب التفسير / السجدة پڑھا ہے۔جو صیغہ مضارع علم ہے، یعنی جو میں ان کے لئے پوشیدہ رکھتا ہوں۔حضرت ابن مسعودؓ کی قراءت میں مَا نُخْفِى لَهُمُ ہے۔یعنی صیغہ جمع متکلم ہے جو ہم ان کے لئے پوشیدہ رکھتے ہیں۔اعمش کی قراءت میں مَا أَخْفَيْتُ کھم ہے، ماضی متکلم مفرد یعنی جو میں نے ان کے لئے پوشیدہ رکھا ہے۔باب کی پہلی روایت جمہور کی تائید میں ہے اور دوسری روایت بھی، سوائے اس کے کہ اس میں حضرت ابو ہریرہ سے بجائے قُرةِ أَعْيُنِ کے قُرَاتِ أَعْيُنِ جمع کے صیغے ہیں۔یہ دراصل شرح ہے یعنی آنکھوں کی ایک ٹھنڈک نہیں بلکہ کئی ٹھنڈ کیں ہوں گی۔عربی کا قاعدہ یہ ہے کہ مفرد کی اضافت جب جمع مضاف الیہ کی طرف ہو تو مضاف بھی جمع کے معنوں میں متصور ہو سکتا ہے۔تیسری روایت میں جو حدیث قدسی حضرت ابو ہریرہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی ہے اس سے مذکورہ بالا مفہوم کی تائید ہوتی ہے اس میں لفظ ذخرا سے بتایا گیا ہے کہ وہ پوشیدہ نعمتیں بہت بڑا ذخیرہ ہوں گی۔مِنْ بَلِّهِ مَا أَطْلِعْتُمْ عَلَيْهِ جن نعمتوں کی تمہیں اطلاع ہے اس کا ذکر چھوڑ دو یا اس کا کیا ذکر، یہ نعمتیں اخروی نعمتوں کے مقابل میں بہت ہی حقیر ہیں اور قابل ذکر نہیں کیونکہ ان پوشیدہ نعمتوں کا تصور بھی نہیں ہو سکتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حدیث قدسی بیان کر کے آیت فَلَا تَعلَمُ نَفْسٌ مَا أَخْفِيَ لَهُم مِّن قَرَةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ) (السجدة: ۱۸) یعنی کوئی نفس نہیں جانتا کہ ان کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک کا کیا کیا سامان پوشیدہ رکھا گیا ہے جو ان اعمال کا بدلہ ہو گا جو وہ ( دنیا میں) کرتے تھے ، پڑھی۔بَلہ اسم فعل ہے جو اپنے مابعد کو نصب دیتا ہے۔اس کے معنی ہیں رہنے دے، چھوڑ۔اخفش ادیب نے اس لفظ کو مصدر قرار دیا ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۶۵۶،۶۵۵) (عمدۃ القاری جزء ۱۹ صفحه ۱۱۳، ۱۱۴) اور بعض وقت مصدر متعدی بھی اپنے مابعد پر نصب دیتا ہے۔امام بخاری نے سورۃ السجدۃ کی جن آیات کو نمایاں کیا ہے ان سے اس سورۃ کے موضوع کا تعین مقصود ہے یعنی پیدائش آدم اور حیات اخرویہ۔