صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 177
صحيح البخاری جلد هُرَيْرَةَ قُرَّاتِ أَعْيُنٍ۔أطرافه : ٣٢٤٤، ٤٧٨٠، ٧٤٩٨- 122 ۶۵ کتاب التفسير / السجدة آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ) روایت کی ہے؟ تو انہوں نے کہا: یہ نہیں تو پھر اور کہاں سے؟ ابو معاویہ نے اعمش سے روایت کرتے ہوئے کہا: اعمش نے ابو صالح سے نقل کیا کہ حضرت ابو ہریرہ نے یہ آیت یوں پڑھی: قُرَاتِ أَعْيُنٍ۔٤٧٨٠ : حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ :۴۷۸۰ اسحاق بن نصر نے مجھ سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ ابو اسامہ نے ہمیں بتایا۔اعمش سے روایت ہے حَدَّثَنَا أَبُوْ صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ کہ (انہوں نے کہا: ) ابو صالح نے ہم سے بیان اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ کیا۔انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رَضِيَ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ اللَّهُ تَعَالَى أَعْدَدْتُ سے ، حضرت ابو ہریرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم لِعِبَادِي الصَّالِحِينَ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ سے روایت کی کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلَى اپنے نیک بندوں کے لئے وہ کچھ تیار کر رکھا ہے قَلْبِ بَشَرِ ذُخْرًا مِنْ بَلْهِ مَا أُطْلِعْتُمْ جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے، نہ کسی کان نے سنا ثُمَّ قَرَأَ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أَخْفى ہے، نہ کسی انسان کے دل پہ اس کا خیال گزرا ہے۔وہ نعمتیں ایسا ذخیرہ ہیں کہ ان کے مقابل پر لَهُم مِّنْ قَرَةِ أَعْيُنٍ ۚ جَزَاءً بِمَا كَانُوا جو نعمتیں تمہیں معلوم ہیں ان کا کیا ذکر۔پھر يعملون (السجدة : ١٨)۔أطرافة: ٣٢٤٤ ٤٧٧٩، ٧٤٩٨ انہوں نے یہ آیت پڑھی: فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ۔۔۔۔کوئی نفس نہیں جانتا کہ ان کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک کا کیا کیا سامان پوشیدہ رکھا گیا ہے جو ان اعمال کا بدلہ ہو گا جو وہ (دنیا میں ) کرتے تھے۔شريح : فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أَخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قرة أعين: اس آیت کی قراءت میں اختلاف ہوا ہے۔جمہور کی قراءت میں اُخُفی ماضی مبنی مجہول ہے لیکن حمزہ قاری نے مَا اُخْفِى لَهُمُ