صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 176
صحیح البخاری جلد 121 ۶۵ - کتاب التفسير / السجدة بَاب ۱ : فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةٍ أَعْيُنِ (السجدة: ۱۸) اللہ تعالیٰ کا فرمانا :) کوئی نفس نہیں جانتا کہ ان کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک کا کیا کیا سامان پوشیدہ رکھا گیا ہے الله ٤٧٧٩ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ :۴۷۷۹: علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَن سفيان بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ ابوالزناد سے، ابوالزناد نے اعرج سے، اعرج عَنْهُ عَنْ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ابوہریرہ نے رسول اللہ صلی ا یکم سے روایت کی کہ أَعْدَدْتُ لِعِبَادِي الصَّالِحِيْنَ مَا لَا آپ نے فرمایا: اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : میں عَيْنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ نے اپنے نیک بندوں کے لئے وہ کچھ تیار کر رکھا عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ۔قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا اور نہ کبھی انسان کے دل پر اس کا خیال گزرا ہے۔حضرت ابوہریرہ کہتے تھے اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو: فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ یعنی کوئی نفس نہیں جانتا کہ ان کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک کا کیا کیا سامان پوشیدہ رکھا گیا ہے۔اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا اخْفِيَ لَهُم مِّنْ قَرَةِ أَعْيُنِ (السجدة : ١٨)۔و حَدَّثَنَا عَلِيٌّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ اور علی بن عبد اللہ ) نے ہمیں بتایا۔سفیان حَدَّثَنَا أَبُو الزَّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ (بن عيبینہ) نے ہم سے بیان کیا کہ ابولز ناد نے عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ الله۔۔۔ہمیں بتایا۔انہوں نے اعرج سے، اعرج نے مِثْلَهُ قِيْلَ لِسُفْيَانَ رِوَايَةً قَالَ حضرت ابوہریرہ سے روایت کی کہ انہوں نے فَأَيُّ شَيْءٍ؟ وَقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ کہا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وہی جو اوپر بیان کیا گیا عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ قَرَأَ ہے۔سفیان سے پوچھا گیا: (آپ نے یہ حدیث