صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 175
صحيح البخاری جلد ۱۵ -۲۵ کتاب التفسير / السجدة ٣٢- سُوْرَةُ السَّجدة وَقَالَ مُجَاهِدٌ مَهِينٍ (السجدة: (۹) اور مجاہد نے کہا: مَهِينِ کے معنی ہیں حقیر ، ضَعِيْفٍ، نُطْفَةُ الرَّجُلِ ضَلَلْنَا کمزور۔اس سے مراد آدمی کا نطفہ ہے۔ضللنا ہے۔(السجدة: ١١) هَلَكْنَا۔وَقَالَ ابْنُ یعنی ہم ہلاک ہو گئے، برباد ہو گئے۔اور حضرت عَبَّاسِ الْجُرُز (السجدة: ۲۸) الَّتِي لَا ابن عباس نے فرمایا: الجرز وہ زمین جس میں تُمْطَرُ إِلَّا مَطَرًا لَا يُغْنِي عَنْهَا شَيْئًا بارش نہ ہو ، اگر ہو تو بھی کچھ فائدہ نہ دے۔کیھدِ يَهْدِ (السجدة: ٢٧) نُبَيِّنَ۔کے معنی ہیں ہم کھول کر بیان کرتے ہیں۔تشریح : وَقَالَ مُجَاهِدٌ مَهِينٍ: اس سے مراد یہ آیت ہے : ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهُ مِنْ سُللَةٍ مِّنْ ماء مهين (السجدة: 9) پھر اس کی نسل کا سلسلہ ایک حقیر پانی کے خلاصے سے چلایا ہے۔ضللنا کے معنی ہیں ہم ہلاک ہو گئے۔فرماتا ہے: وَقَالُوا ءَ إِذَا ضَلَلْنَا فِي الْأَرْضِ وَإِنَّا لَفِي خَلْقٍ جَدِيدِ بَلْ هُمْ بِلِقَائِ رَبِّهِمْ كَفَرُونَ (السجدة: 11) اور انہوں نے کہا: آیا جب ہم زمین میں کھوئے جائیں گے تو کیا ہم نئی پیدائش میں (زندہ) کئے جائیں گے۔بلکہ (حقیقت تو یہ ہے کہ ) وہ تو اپنے رب کی ملاقات ہی سے منکر ہیں۔اور حضرت ابن عباس نے فرمایا: الجرز کے معنی ہیں بنجر زمین۔یہ شرح اس آیت کی ہے: اَو لَمْ يَرَوُا انا نَسُوقُ الْمَاءَ إِلَى الْأَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهِ زَرْعًا تَأْكُلُ مِنْهُ أَنْعَامُهُمْ وَأَنْفُسُهُمْ أَفَلَا يُبْصِرُونَ (السجدة: ۲۸) کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم پانی کو بنجر زمین کی طرف چلاتے ہیں۔پھر اس کے ذریعے سے ہری بھری کھیتی پیدا کرتے ہیں جس سے ان کے چوپائے بھی کھاتے ہیں اور وہ خود بھی کھاتے ہیں۔پس کیا وہ غور نہیں کرتے۔أَوَلَمْ يَهْدِ كے معنى أَوَ لَمْ يُبَيِّنُ حضرت ابن عباس سے ہی منقول ہیں۔الْجُرُز اور لَمْ يَهْدِ کی شرح علامہ طبری نے ان سے نقل کی ہے۔اَوَلَمْ يَهْدِ سے یہ آیت مراد ہے: اَو لَمْ يَهْدِ لَهُمْ كَمْ أَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِنَ الْقُرُونِ يَمْشُونَ فِي مَسْكِنِهِمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَايَةٍ أَفَلَا يَسْمَعُونَ) (السجدۃ: ۲۷) کیا ابھی تک ان کے لئے واضح نہیں ہوا کہ ہم نے گزشتہ زمانوں کی کئی قوموں کو ہلاک کر دیا جو اپنے بود و باش کی جگہوں میں چلتے پھرتے تھے۔یقیناً اس میں بہت سے نشانات ہیں۔کیا وہ سنتے نہیں ؟ او لَمْ يَهْدِ کا مذکورہ بالا مفہوم ابو عبیدہ نے بھی تسلیم کیا ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۶۵۴) ا نسخہ یونینیہ میں لفظ نَهْدِ ہے۔(الجامع الصحيح للبخاری ، مطبوعہ دار طوق النجاة، جزء ۶ صفحه ۱۱۸۳)