صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 173
11 صحیح البخاری جلد !! ۱۷۳ ۶۵ - کتاب التفسير القمان فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا وَإِذَا كَانَ الْحُفَاةُ اگر یہ نہیں کہ تم اسے دیکھ رہے ہو تو پھر اتنا تو ہو الْعُرَاةُ رُءُوسَ النَّاسِ فَذَاكَ مِنْ کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ وہ کہنے لگا: یا رسول الله ! أَشْرَاطِهَا فِي خَمْسٍ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا وہ گھڑی کب ہو گی؟ آپ نے فرمایا: جس شخص سے اللهُ إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَ اس کی بابت پوچھا جا رہا ہے وہ پوچھنے والے سے يُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ زیادہ نہیں جانتا مگر میں تمہیں اس کی علامتیں (لقمان: ٣٥) ثُمَّ انْصَرَفَ الرَّجُلُ بتائے دیتا ہوں۔ جب عورت اپنے مالک کو جنے فَقَالَ رُدُّوا عَلَيَّ فَأَخَذُوا لِيَرُدُّوا فَلَمْ گی تو یہ اس کی علامتوں میں سے ایک علامت ہے يَرَوْا شَيْئًا فَقَالَ هَذَا جِبْرِيلُ جَاءَ اور جب ننگے پاؤں، ننگے بدن (آوارہ گرد) لِيُعَلِّمَ النَّاسَ دِيْنَهُمْ۔ لوگوں کے سردار ہوں گے۔ یہ بات بھی اس کی علامتوں میں سے ہے۔ اس گھڑی کا علم ان پانچ باتوں میں سے ہے جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی) اِنَّ اللهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ ۔ پھر اس کے بعد وہ شخص واپس چلا گیا۔ آپ نے فرمایا: اسے میرے پاس واپس لے آؤ۔ صحابہ اسے واپس بلانے کے لئے گئے مگر انہوں نے کچھ نہ دیکھا۔ آپؐ نے فرمایا: یہ جبرائیل ہیں جو اس لئے آئے تھے کہ لوگوں کو ان کا دین سکھائیں۔ طرفه: ٥٠۔ ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : يقينا اللہ ہی ہے جس کے پاس قیامت کا علم ہے علم ہے اور وہ بارش کو اُتار تا ہے اور جانتا ہے کہ رحموں میں کیا ہے اور کوئی ذی روح نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائے گا اور کوئی ذی روح نہیں جانتا کہ کسی زمین میں وہ مرے گا۔ یقینا اللہ دائمی علم رکھنے والا ( اور ) ہمیشہ باخبر ہے۔“ 66