صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 173
صحیح البخاری جلد لِيُعَلِّمَ النَّاسَ دِيْنَهُمْ۔۲۵ - كتاب التفسير القمان فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا وَإِذَا كَانَ الْحُفَاةُ اگر یہ نہیں کہ تم اسے دیکھ رہے ہو تو پھر اتنا تو ہو الْعُرَاةُ رُءُوْسَ النَّاسِ فَذَاكَ مِنْ کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔وہ کہنے لگا: یارسول اللہ ! أَشْرَاطِهَا فِي خَمْسٍ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا وہ گھڑی کب ہوگی؟ آپ نے فرمایا: جس شخص سے الله إنّ اللهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَ اس کی بابت پوچھا جا رہا ہے وہ پوچھنے والے سے يُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَ يَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ زیادہ نہیں جانتا مگر میں تمہیں اس کی علامتیں (لقمان: ٣٥) ثُمَّ انْصَرَفَ الرَّجُلُ بتائے دیتا ہوں۔جب عورت اپنے مالک کو چنے فَقَالَ رُدُّوْا عَلَيَّ فَأَخَذُوْا لِيَرُدُّوْا فَلَمْ کی تو یہ اس کی علامتوں میں سے ایک علامت ہے يَرَوْا شَيْئًا فَقَالَ هَذَا جِبْرِيلُ جَاءَ اور جب ننگے پاؤں، ننگے بدن (آوارہ گرد) لوگوں کے سردار ہوں گے۔یہ بات بھی اس کی علامتوں میں سے ہے۔اس گھڑی کا علم ان پانچ باتوں میں سے ہے جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔(پھر آپ نے یہ آیت پڑھی) اِنَّ اللهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَا۔پھر اس کے بعد وہ شخص واپس چلا گیا۔آپ نے فرمایا: اسے میرے پاس واپس لے آؤ۔صحابہ اسے واپس بلانے کے لئے گئے مگر انہوں نے کچھ نہ دیکھا۔آپ نے فرمایا: یہ جبرائیل ہیں جو اس لئے آئے تھے کہ لوگوں کو ان کا دین سکھائیں۔طرفه ا ترجمه مضرت خلیفة المسیح الرابع: ”یقینا اللہ ہی ہے جس کے پاس قیامت کا علم ہے اور وہ بارش کو اُتار تا ہے اور جانتا ہے کہ رحموں میں کیا ہے اور کوئی ذی روح نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائے گا اور کوئی ذی روح نہیں جانتا کہ کسی زمین میں وہ مرے گا۔یقینا اللہ دائمی علم رکھنے والا ( اور ) ہمیشہ باخبر ہے۔“