صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 171
صحيح البخاری جلد 121 ٣١ سُورَةُ لُقْمَان ۶۵ - كتاب التفسير القمان بَاب : ١ لَا تُشْرِكْ بِاللهِ إِنَّ الشّرْكَ لَظُلُمٌ عَظِيمٌ (لقمان: ١٤) ( اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) اللہ کا شریک نہ ٹھہراؤ کیونکہ شرک بہت بڑا ظلم ہے ٤٧٧٦: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ :۴۷۷۶ قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ جریر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اعمش سے ، اعمش إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ نے ابراہیم (شخصی) سے، انہوں نے علقمہ سے، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ علقمہ نے حضرت عبد اللہ (بن مسعود) رضی اللہ الآيَةُ الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: جب آیت اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ (الأنعام: ۸۳) شَقَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَ لَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ نازل ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللهِ ہوئی یعنی وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالُوْا أَيُّنَا لَمْ اپنے ایمان کی ظلم سے آمیزش نہیں کی، تو رسول اللہ صلی الم کے صحابہ پر شاق گزرا اور وہ يَلْبِسْ إِيْمَانَهُ بِظُلْمٍ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ لَيْسَ بِذَاكَ کہنے لگے : ہم میں سے کون ہے جس نے اپنے ایمان کو ظلم سے آمیختہ نہیں کیا۔رسول اللہ أَلَا تَسْمَعُ إِلَى قَوْلِ لُقْمَانَ لِابْنِهِ إِنَّ عَلیم نے فرمایا: اس سے یہ مراد نہیں ہے۔کیا الشرك لظلُمٌ عَظِيمٌ (لقمان: ١٤) تم لقمان کی بات نہیں سنتے جو انہوں نے اپنے بیٹے سے کہی۔یعنی شرک ہی بہت بڑا ظلم ہے۔أطرافه : ٣٢، ٣٣٦٠، ٣٤٢٨ ٣٤٢٩ ٤٦٢٩، ٦٩١٨، ٦٩٣٧- لا تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشَّرُكَ لَظُلْمٌ عَظیم سے سورۃ لقمان کی یہ آیت مراد ہے: وَ إِذْ قَالَ لَقَمَنُ لِابْنِهِ وَهُوَ يَعِظُهُ يُبْنَى لَا تُشْرِكَ بِاللهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ (لقمان: ۱۴) اور یہ بات مد نظر رہے کہ لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا تھا جب وہ اپنے بیٹے کو نصیحت کر رہے تھے کہ اے میرے بیٹے ! اللہ کا شریک نہ ٹھہراؤ کیونکہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ظلم کے معنی وَضْعُ الشَّيْءِ فِي غَيْرِ مَوْضِعِهِ کسی شے کو اپنی جگہ پر نہ رکھنا بلکہ دوسری جگہ پر۔کسی کا حق چھین کر دوسرے کو دینا۔صفات باری تعالیٰ کی