صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 170
صحيح البخاری جلد 14+ -۲۵ - كتاب التفسير / الروم اور پھر خنک ہواؤں سے اِدھر اُدھر لے جائے جاتے ہیں اور ٹھنڈک سے قطروں کی شکل میں تبدیل ہو کر بو جھل ہو جاتے ہیں اور پھر زمین کی کشش ثقل کے ذریعے سے نیچے گرتے ہیں۔اس غور سے مطالعہ کا نتیجہ سائنس کہلاتا ہے۔انسان کے اس مطالعہ میں زمین کے پانیوں، سورج کی گرمی، ہواؤں کی حرکت، فضائے بالا، کرہ زمہریر اور کشش ثقل میں رابطہ تلاش کیا گیا ہے۔دین فطرت نے قطعا اس کے خلاف کوئی بات نہیں کی۔بلکہ سورۃ الروم ہی میں اس حقیقت کو ایک آیت میں بیان کیا گیا ہے، جس کا حوالہ ابھی دیا جا چکا ہے۔اس آیت (الروم : ۴۹) میں الفاظ يُرْسِلُ، تُثِيرُ ، يَبسُط ، كسَفًا اور الودق سائنس کی اس بارے میں ساری تحقیق کی صحیح ترجمانی کرتے ہیں۔مثلاً تثير سحابا کا مطلب یہ ہے کہ ہوائیں بخارات کو جو گرمی کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں اُٹھاتی ہیں اور ودق بخارات کے غبار کو بھی کہتے ہیں جو فضائے بالا میں ہمیں نظر آتا ہے اور ان قطروں کو بھی کہتے ہیں جو بوجہ بوجھل ہونے کے بادلوں سے ٹپکتے ہیں۔قرآن مجید میں جابجا الہی پیدائش پر غور کرنے کی تاکید فرمائی گئی ہے اور یہ خیال غلط ہے کہ سائنس اور دین جو فطرت اللہ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے ان کے درمیان کوئی اختلاف یا تضاد ہے۔