صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 9 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 9

صحیح البخاری جلد ۹ ۶۵ - کتاب التفسير / كهيعص عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيِّنَ مِنْ ذُرِّيَّةِ آدَمَ وَ مِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ وَمِنْ ذُرِّيَّةِ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْرَائِيلَ وَ مِمَّنْ هَدَيْنَا وَاجْتَبَيْنَا إِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ أَيْتُ الرَّحْمَنِ خَذُوا سُجَّدًا وَ بُكِيًّا (مریم: ۵۹) نبیوں میں سے یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے انعام کیا ہے آدم کی ذریت سے اور ان کی ذریت سے جنہیں ہم نے نوح کے ساتھ کشتی میں سوار کیا اور ابراہیم اور یعقوب کی ذریت سے اور اُن لوگوں میں سے جنہیں ہم نے اب ہدایت دی اور انہیں چن لیا ہے جن پر رحمن کی آیات پڑھی جاتی ہیں تو وہ سر بسجو د روتے ہوئے گر پڑتے ہیں۔ اس آیت میں بکیا جمع باک ہے یعنی روتے ہوئے۔ اس آیت کا آخری حصہ مِمَّنْ هَدَيْنَا وَ اجْتَبَيْنَا کا تعلق اُمتِ محمدیہ سے ہے اور اس آیت سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ یہ مخصوص منعم علیہ کا گروہ اُمت محمدیہ میں بھی پیدا ہوتا رہے گا۔ جیسا کہ کتاب المناقب باب ۲۵ عَلَامَاتِ النَّبُوَّةِ فِی الْإِسْلَام کی شرح میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا جا چکا ہے۔ آیت مِمَّنْ هَدَيْنَا وَ اجْتَبَيْنَا کی یہ تاویل قیاسی نہیں بلکہ خود قرآن مجید میں رسول الله صلی اللی روم میں رسول اللہ صلی الہ علم کی اُمت کے بارے میں بایں الفاظ صراحت فر فرمائی ہے: وَجَاهِدُوا فِي اللهِ حَقَّ جِهَادِهِ هُوَ اجْتَبْكُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ مِلَّةَ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ هُوَ سَمْكُمُ الْمُسْلِمِينَ (الج: ۷۹) یعنی اور لقائے الہی کے لیے پوری کوشش کرو جیسا کہ کوشش کرنے کا حق ہے۔ اس نے تمہیں چن لیا ہے اور دین کے بارے میں تم پر کسی قسم کی تنگی نہیں کی۔ اپنے باپ ابراہیم کا طریق اختیار کرو۔ اس نے تمہارا نام مسلم (فرمانبردار ) رکھا ہے۔ سو اس آیت سے واضح ہے کہ ملت اسلامیہ آئندہ کے لئے الہی منتخب شدہ جماعت قرار دی گئی ہے اور اس جماعت کا ذکر اور ان کی حالت خشیت اور خشوع و خضوع کا ذکر سورۃ مریم کی مندرجہ بالا آیت میں کیا گیا ہے اور اُن سے انعام نبوت کا وعدہ ہے۔ صِلِيًّا : صَلِيَ يَصْلَی سے ہے یعنی آگ میں پڑنا۔ عَلِمَ يَعْلَمُ عِلْمًا کے وزن پر۔ جیسے لَقِيَ يَلْقَى لَقِيًّا۔ صلیا کے معنی ہیں آگ میں پڑنا اور جلنا (عمدۃ القاری جزء ۱۹ صفحه ۵۱) امام ابن حجر نے اسے باب فعول قرار دیا ہے۔ حرف واؤ، یاء سے تبدیل ہو کر دوسری یاء میں مدغم ہو گئی ہے۔ یہ قول ابو عبیدہ کا ہے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۴۳) پوری آیت یہ ہے : ثُمَّ لَنَحْنُ اَعْلَمُ بِالَّذِينَ هُمْ أَولَى بِهَا صِلِيًّا وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا ۚ كَانَ عَلَى رَبِّكَ حَتْمًا مقْضِيًّا (مریم: اے، ۷۲) پھر ہم خوب جانتے ہیں کہ ان میں سے کون اس جہنم میں پڑنے کا زیادہ مستحق ہے اور تم میں سے ہر شخص اس میں جانے والا ہے۔ یہ تیرے رب کی فیصلہ شدہ پکی بات ہے جسے پورا کرنا تیرے رب پر لازمی ہے۔ ان آیات سے ظاہر ہے کہ جس جہنم کے بھڑکائے جانے کا ان آیات کے سیاق و سباق میں ذکر ہے وہ عالمگیر مصیبت ہے جس سے کوئی نہیں بچے گا اور متقیوں کو اس سے نجات دینے کا وعدہ ہے۔ نَدِيَّا وَالنَّادِي وَاحِدٌ : نَدِيَّا اور نَادِی کے ایک ہی معنی ہیں یعنی مجلس ۔ یہ معنی عبد الرزاق نے بواسطہ معمر قتادہ سے نقل کئے ہیں۔ بعض نے اسے النَّدی بمعنی کرم، سخاوت، شرف قرار دیا ہے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۴۳) یعنی ایسی سوسائٹی جس میں شرفاء اور اعلیٰ طبقہ کے اکابر جمع ہوتے ہوں۔